اشاعتیں

آخرت کی فکر

 " ایک نصیحت ہم سب کیلئے"  ایک آدمی دریا کے کنارے بیٹھا تھا..  کچھ لوگوں نے پوچھا کیا کررہے ہو ؟ وہ بولا ! پانی کے ختم ہونے کا انتظار کررہا ہوں جب سارا پانی ختم ہوگا....تب دریا پار کروں گا..  وہ لوگ کہنے لگے ! کیسی بیوقوفی کی بات کررہے ہو, پانی ختم ہونے کے انتظار میں تو تمھاری زندگی ختم ہوجائے گی....گزرنا ہے تو ہمت کرو اور گزر جاؤ..  یہ سن کر اس بندے نے ان کی طرف دیکھا اور درد بھرے لہجے میں بولا.....یہی تو میں تمھیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ..... تم لوگ جو یہ ہمیشہ سوچتے ہو کہ جب زندگی کی مصروفیات ختم ہوں گی تب.....اللہ کے فرمانبردار بنیں گے , نماز پڑھیں گے , نیکی کے کام کریں گے..  تو یاد رکھو❗جس طرح دریا کا پانی ختم ہونے سے پہلے میری زندگی ختم ہوجائے گی.....اسی طرح تمھاری مصروفیات ختم ہونے سے پہلے.....تمھاری زندگی ختم ہوجائے گی..  اگر اپنی آخرت کیلئے کچھ کرنا ہے....تو پھر ہمت کرو اور کر گزرو کیونکہ❗جو کچھ بھی کرنا ھے تم نے خود ہی کرنا ہے

دعوت وتبلیغ کے اصول و احکام پارٹ2

 کتاب:دعوت وتبلیغ کے اصول و احکام/ص۲۵۲ مؤلف:مفتی محمد زید مظاہری ندوی دامت برکاتہم تبلیغ میں غلو تعلیم کو چھوڑ کر تبلیغ میں جانے کی ممانعت ہم لوگوں میں کام کے وقت غلو ہو جاتا ہے کہ بس جدھر رخ کرتے ہیں ، سب ایک ہی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں، اس لئے تبلیغ کی ضرورت بیان کرتے ہوئے مجھے اندیشہ ہے کہ کبھی ایسا نہ ہو کہ مدرسین وطلبہ پڑھنا پڑھانا چھوڑ دیں بلکہ اس کو اپنے بزرگوں سے پوچھو کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے ۔ آیا سبق چھوڑ کر چلے جائیں یا پڑھتے رہیں۔ یا ایک وہاں سے چلا آئے پھر دوسرا جائے ۔ غرض اپنی رائے سے کچھ نہ کرو۔ ورنہ بجائے اصلاح کے فساد ہوگا۔ میں نے اس کو قصداً عرض کیا ہے کیونکہ میں یہ رنگ دیکھ رہا ہوں کہ آج کل وہ طلبہ بھی جو علم سے فارغ نہیں ہوئے ۔ تبلیغ میں مشغول ہونا چاہتے ہیں۔ میرے نزدیک ان کے لئے تکمیل علم پہلے ضروری ہے کیونکہ اگر یہ پڑھنا پڑھانا نہ ہوتو تصنیف وتبلیغ وغیرہ بھی سب بیکار ہے کیوں کہ ناقص ( جاہل) کی تبلیغ وغیرہ کا کچھ اعتبار نہیں علم نہ ہونے کی وجہ سے خود بھی گمراہ ہوگا دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا ) بلکہ اس طرح تو چند روز میں علم بالکل نا پید ہو جائے گا تو تعلیم وتعلم ( درس ...

دعوت وتبلیغ کے اصول و احکام پارٹ1

 کتاب:دعوت وتبلیغ کے اصول و احکام/ص۲۵۰ مؤلف:مفتی محمد زید مظاہری ندوی دامت برکاتہم دعوت وتبلیغ کے لئے مدارس کا قیام بہت ضروری ہے یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ جب انبیاء علیہ السلام نے مدرسہ نہیں بنایا تو مدرسہ بے کار ہیں۔ یہ بیکار نہیں ہیں۔ یہ ایسے ہیں جیسے نماز کیلئے وضو، کہ جس طرح نماز کے لئے وضوضروری ہے اسی طرح تبلیغ واشاعت دین کیلئے مدارس کا وجود ضروری ہے۔ وہاں تو مدارس کی ضرورت اس لئے نہ تھی کہ علوم کا محفوظ رہنا عادہ ان پر موقوف نہ تھا۔ سماع ( سننے ) سے علوم محفوظ تھے۔ اور وہاں رات دن ان کی تبلیغ واشاعت ہی سے کام تھا۔ سفر میں ، حضر میں، چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے ان حضرات کا شغل دعوت الی اللہ ہی تھا۔ اب رہا یہ کہ پڑھنا پڑھانا پھر کیوں ضروری ہوا۔ اصل تو یہی تھا کہ ایک دوسرے کو یوں ہی کہتا رہے۔ مگر نہ سلف کا سا تقویٰ رہا۔ نہ حافظہ ۔ اگر ایسے ہی رہنے دیا جاتا تو یہ اطمینان نہ تھا کہ سنے ہوئے مسائل یاد رہیں گے ۔ دوسرے تقویٰ کی کمی سے دیانت بھی روز بروز کم ہو جاتی ہے۔ تو اس حالت میں یہ بھی اعتماد نہ تھا۔ کہ ( دین کی بات جو ) یہ نقل کرتا ہے یہ ٹھیک بھی ہے یا اپنی طرف سے کچھ کمی بیشی کر رہ...

علماء وعوام کی تبلیغ کا فرق اور اس کے حدود

 علماء وعوام کی تبلیغ کا فرق اور اس کے حدود (۱) علماء کے ذمہ تو تبلیغ اس شان سے ہے کہ وہ اپنے سارے اوقات میں یہی کام کریں۔ اور دوسرے آدمی جستہ جستہ ( وقتاً فوقتاً) اوقات میں یہ کام کیا کریں۔ (۲) تفصیل اس کی یہ ہے کہ خطاب کی دو قسمیں ہیں: ایک خطاب عام دوسرے خطاب خاص ۔ دوسری تقسیم یہ ہے کہ ایک خطاب بالمنصوص ہے ایک خطاب بالاجتہاد ۔ پس خطاب عام بصورت وعظ تو علماء کا کام ہے . مگر انفردای خطاب میں علماء کی تخصیص نہیں انفرادی طور پر ہر مسلمان ایک دوسرے کو نصیحت کر سکتا ہے۔  (۳) اسی طرح خطاب بالمنصوص علماء کے ساتھ خاص نہیں ( یعنی جو مسائل و احکام شریعت میں صاف صاف مذکور ہیں ان کی تبلیغ علماء کے ساتھ خاص نہیں ہر شخص کو کرنا چاہئے، ہر شخص بآواز بلند کہہ سکتا ہے کہ ایمان لانا فرض ہے۔ نماز ، روزہ ، اورزکوۃ فرض ہے) اور امور اجتہادیہ (فقہ کے باریک مسائل ) سے خطاب کرنا علماء کے ساتھ خاص ہے۔ عوام اس میں غلطی کریں گے۔ عالم کو اول تو جزئیات بہت یاد ہوں گے وہ اس میں غلطی نہ کرے گا۔ اور اگر جزئیات نہ بھی یاد ہوئے تو علم کی شان کے اعتبار سے اس کو  “لا ادری“ ( مجھے معلوم نہیں ) کہنے میں عار نہ...

نکاح کے تعلق سے حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کے اقوال*

 *بر وقت نکاح کے تعلق سے حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کے اقوال*                     *نکاح* اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہو رہے ہیں اور 25 - 30 سال تک نکاح نہیں ہو رہا ہے تو یہ جنسی مریض بھی بنیں گے اور گناہ بھی کریں گے۔                    *نکاح*  وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے ، اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے۔                   *نکاح* ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں اور یہ ایک فطری ضرورت ہے لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں۔                   *نکاح* بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے ، اور جب جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ / بچی گناہ اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔                   *نکاح* بدقسمتی کی انتہا ، اسکول ، یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح...

اللہ نے انسان کو بہترین تخلیق کیا ہے۔

تصویر
 ﷲ نے انسان کو بہترین تخلیق کیا ہے۔  آج کی سائنسی تحقیق کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر سانس کی نالی (Larynx) زیادہ پھیل جاۓ تو انسانی آواز غائب ہو جاۓ گی، اور اگر یہ پہلے سے کچھ زیادہ تنگ ہو جاۓ۔  سانس لینے میں دشواری ہو گی اور آواز غائب ہو جائے گی، اور سانس لینا مشکل ہے۔  اللہ تعالیٰ نے فرمایا {صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ}  اور اگر بینائی حد سے بڑھ جاتی تو ہماری زندگی جہنم بن جاتی۔  اگر آپ پانی کے اس گلاس کو دیکھیں جو آپ ابھی پی رہے ہیں، آپ کو صاف، میٹھا، چمکتا ہوا، صاف نظر آئے گا، اگر نظر کی طاقت تھوڑی بڑھ جائے تو اس پیالے میں حیرت کا عالم دیکھا ہوگا، آپ جاندار اور بے ضرر جراثیم دیکھیں گے، پھر آپ وہ پانی نہیں پیو گے۔  اور اگر قوت سماعت تھوڑی سی بھی بڑھ جاتی تو رات کو نیند نہ آتی کیونکہ تمام آوازیں اس سے جذب ہوتی ہیں۔  درحقیقت، آپ کے معدے میں نظام ہاضمہ کی آوازیں تقریباً ایک بڑی تجربہ گاہ کی طرح ہیں۔  اور اگر لمس کا احساس بڑھ جائے تو آپ کو جامد بجلی محسوس ہوگی جو آپ کی زندگی کو ناقابل برداشت جہنم میں بدل سکتی ہے۔ ...

سبق جلدی کیسے یاد کریں؟

تصویر
 سبق جلدی کیسے یاد کریں؟         سبق جلدی کیسے یاد کریں        طلبہ و طالبات کیلیے ایک اہم پوسٹ۔۔۔۔۔۔  میں اس سوال کا جواب تلاش کر رہا تھا، مختلف لوگوں سے پوچھتا رہا، کتب کھنگالتا رہا اور ”گوگل“ کا استعمال کرتا رہا۔ مختلف بڑے کارآمد طریقے معلوم ہوۓ۔ ان میں ایک بڑا دلچسپ طریقہ SOL ہے یعنی Speak out loud کا طریقہ ہے۔ اس طریقہ کار میں کرنا یہ ہوتا ہے کہ بچہ اپنا ایک ہاتھ بائیں کان پر رکھے اور اونچی آواز میں سبق یاد کرنے لگے۔ اتنی اونچی آواز میں کہ اسے خود اپنی آواز سنائی دے۔ ایسا کرنے سے اسکی آواز داٸیں کان سے ہوکر اسکے دماغ کے لانگ ٹرم حصہ میں جائے گی، جس سے وہ معلومات زیادہ عرصے تک محفوظ رہ جاٸیں گی۔ کیونکہ جب ہم عام طور پر دونوں کانوں سے سن رہے ہوتے ہیں تو زیادہ تر معلومات دماغ کے شعوری حصہ میں محفوظ ہوتی ہیں، لیکن بایاں کان بند ہونے سے یہ معلومات دماغ کے غیر شعوری حصے میں محفوظ ہوجاتی ہیں، چنانچہ اس طریقے سے پڑھی ہوٸی معلومات غیرشعوری حصے میں پڑی ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر تک ہمارے دماغ میں محفوظ رہتی ہیں۔ احباب گرامی! یہاں سے مجھے یہ ب...