اشاعتیں

مئی, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پھوٹی کوڑی مغل دور حکومت کی کیا تھی

تصویر
پھوٹی کوڑی مغل دور حکومت کی ایک کرنسی تھی جس کی قدر سب سے کم تھی۔ تین پھوٹی کوڑیوں سے ایک کوڑی بنتی تھی اور دس کوڑیوں سے ایک دمڑی۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کا پرانا ترین سکہ شاید یہی پھوٹی کوڑی ہے۔ یہ پھوٹی کوڑی پھٹا ہوا گھونگا ہے جسے کوڑی "گھونگے" کے نام پر رکھا گیا۔ اس کا استعمال وادی سندھ کی قدیم تہذیب میں بطور کرنسی عام تھا۔ قدرتی طور پر گھونگھوں کی پیداوار محدود تھی اس کی کمیابی سے یہ مطلب لیا گیا کہ اس کی قدر ویلیو ہے۔ جسے بعد میں روپا کہا جانے لگا۔ ایک روپیہ 128 دھیلے، 192 پائی یا 256 دمڑیوں کے برابر تھا۔ ان کے درمیان دس مخلتف سکے تھے جنہیں کوڑی» دمڑی» پائی» دھیلا» پیسہ» ٹکہ» آنہ» دونی» چونی» اٹھنی، اور پھر کہیں جا کر روپیہ بنتا، کرنسی کی قیمت یہ تھی۔ 3 پھوٹی کوڑی = 1 کوڑی 10 کوڑی = 1 دمڑی 2 دمڑی = 1.50 پائی 1.50 پائی = 1 دھیلا 2 دھیلا = 1 پیسہ 3 پیسے = 1 ٹکہ 2 ٹکے = 1 آنہ 4 آنے= چونی آٹھ آنے = اٹھنی 16 آنے = 1 روپیہ  کیونکہ سب سے اعلیٰ اور مکمل حیثیت روپیہ کی تھی جس میں سولہ آنے ہوتے تھے اسلئے بات کا سولہ آنے سچ ہونا 100 فی صد صحیح ہونے کے مترادف تھا۔ 

شاتر چور/shatir chor

 🌹🌹گروپ سبق آموز واقعات🌹🌹 سلسلہ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(1127)                                شاتِر چور ایک نہایت شاطر اور ماہر چور نے چوری کی خاطر، مہنگا لباس زیب تن کرکے معزز اور محترم دکھائی دینے والے شیخ جیسا حلیہ بنایا اور صرافہ بازار میں سنار کی ایک دکان کے اندر چلا گیا،  سنار نے جب اپنی دکان میں وضع قطع سے نہایت ہی رئیس اور محترم دکھائی دینے والے شیخ کو دیکھا جس کا نورانی چہرہ چمک رہا تھا، تو سنار کو ایسا لگا جیسے اس کی دکان کے بھاگ جاگ اٹھے ہوں، اسے پہلی بار اپنی چھوٹی سی دکان کی عزت و وقار میں اضافے کا احساس ہوا، سنار نے آگے بڑھ کر شیخ کا استقبال کیا،  شیخ کے بہروپ میں چور نے کہا: آپ سے آج خریداری تو ضرور ہوگی مگر اس سے پہلے بتائیں کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ اپنی سخاوت سے ہمارے ساتھ مسجد بنانے میں حصہ ڈالیں۔۔۔؟ اس نیک کام میں آپ کا حصہ خواہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو، سنار نے چند درہم شیخ کے حوالے کئے ہی تھے کہ اسی اثناء میں ایک لڑکی جو درحقیقت چور کی ہم پیشہ تھی ، دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی...