اشاعتیں

فروری, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کھانے کے چند مراتب ہے کھانے کے چند درجہ ہے

’’فتاویٰ عالمگیر‘‘  میں یہ لکھا ہے کہ کھانے کے چند مراتب ہیں ۔  پہلا درجہ  فرض ہے اور وہ اتنی مقدار ہے جس سے  آدمی ہلاکت سے بچے۔ اگر کوئی شخص اتنا کم  کھائے یا کھانا پینا چھوڑ دے جس سے ہلاک ہوجائے تو گناہگار ہوگا۔ اور      دوسرا درجہ  ثواب کا ہے کہ اتنی مقدار کھائے جس سے کھڑے ہو کر نماز پڑھی جاسکے اور روزہ سہولت سے رکھ سکے۔         تیسرا درجہ  جائز کا ہے اور وہ نمبر (۲) کی مقدار پر پیٹ بھرنے کی مقدار تک اضافہ ہے تاکہ بدن میں قوت پیدا ہو۔ اس درجہ میں نہ تو ثواب ہے نہ گناہ ہے۔ معمولی حساب اس میں ہے بشرطے کہ مال حلال طریقہ سے حاصل ہوا ہو۔             .  چوتھا درجہ  حرام ہے۔ وہ پیٹ بھرنے سے زائد مقدار ہے۔ البتہ اس درجہ میں اگر مقصود روزہ پر قوت ہو کہ کل کو روزہ رکھنا ہے، یا یہ غرض ہو کہ مہمان بھوکا نہ رہے تو اس مقدار میں بھی مضائقہ نہیں۔ او ر کم کھانے کا ایسا مجاہدہ جس سے فرائض میں نقصان آجاوے جائز نہیں۔ البتہ اگر اس میں نقصان نہ آوے تو کم کھانے کا مجاہدہ کرنے میں مضائقہ نہیں ...

جانور کے گلے میں گھنٹی لٹکانے کا کیا حکم ہے

  جانور کے گلے میں گھنٹی باندھنے کا حکم بتا دیں جواب جانور کے  گلے میں گھنٹی باندھنے  سے اگر کوئی فائدہ مقصود ہو، مثلًا گھنٹی کی آواز  سے پیچھے رہ جانے والا آدمی قافلہ تک پہنچ سکتا ہے، رات کے وقت میں گھنٹی کی آواز سے موذی جانور دور بھاگ جاتے ہیں، گھنٹی کی آواز سے جانور میں چستی پیدا ہوتی ہے، تو ان منافع کے پیشِ نظر جانور کے گلے میں گھنٹی باندھی جا  سکتی ہے، البتہ  اگر جانور کے گلے میں  گھنٹی  کے باندھنے سے کوئی فائدہ مقصود نہ ہو  ، محض تفاخر کی غرض سے ہو   تو اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ الفتاوى الهندية (5/ 354): "لا بأس بتعليق الأجراس على عنق الفرس و الثور، كذا في القنية. واختلف العلماء في كراهة تعليق الجرس على الدواب، فمنهم من قال بكراهته في الأسفار كلها الغزو و غيره في ذلك سواء، و هذا القائل يقول بكراهة ذلك في الحضر كما يقول بكراهته في السفر، ويقول أيضا بكراهة اتخاذ الجلاجل في رجل الصغير، وقال محمد - رحمه الله تعالى - في السير الكبير:  إنما يكره اتخاذ الجرس للغزاة في دار الحرب، وهو المذهب عند علمائنا رحمهم الله تعالى؛ لأن تعليق ال...
 *📢#شمع_فروزاں🕯* *🔰 پردہ اور مختلف مذاہب کی تعلیمات!* *🖋 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی * ___________________________ عورتوں کے لئے پردہ کا تصور قریب قریب ہر مذہب میں رہاہے، مغرب نے جب مذہب سے بغاوت کی اور نفس کی آسودگی کے لئے عورت کو بازار میں لے آیا تو اس مسئلہ میںبھی اسلامی شریعت کو ہدف بنایا گیا ؛ حالاں کہ پردہ کا حکم صرف عورتوں کے لئے نہیں ہے، مردوں کے لئے بھی ہے ، مردوں کے حق میں لازمی حکم یہ ہے کہ ناف سے لے کر ٹخنہ تک کا حصہ چھپایا جائے ، فقہاء اسلام نے اس کی صراحت کی ہے :عورۃ الرجل ما بین سرتہ الیٰ رکبتیہ  (المبسوط للسرخی:۱۰؍۱۴۶) ’’ یعنی مرد کا حصۂ ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے‘‘۔ یہ تو مردوں کے لئے ستر کا لازمی حکم ہے ؛ لیکن مستحب طریقہ یہ ہے کہ گردن سے کمر تک کا حصہ بھی چھپا ہوا ہو ؛ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نماز کے لئے دو کپڑوں کا استعمال فرماتے تھے، ایک : تہبند جو کمر کے نیچے کے حصہ کو ڈھانک لے، دوسرے : وہ کپڑا جس سے اس سے اوپر کا حصہ چُھپ جائے، ایک بار آپ ﷺ نے صرف ایک تہبند میں نماز پڑھی تو دیکھنے والے صحابی کے لئے یہ بات حیرت کا باعث ہوگئی، آپ ﷺ نے ان کا استعجاب ...