کھانے کے چند مراتب ہے کھانے کے چند درجہ ہے
’’فتاویٰ عالمگیر‘‘ میں یہ لکھا ہے کہ کھانے کے چند مراتب ہیں ۔ پہلا درجہ فرض ہے اور وہ اتنی مقدار ہے جس سے آدمی ہلاکت سے بچے۔ اگر کوئی شخص اتنا کم کھائے یا کھانا پینا چھوڑ دے جس سے ہلاک ہوجائے تو گناہگار ہوگا۔ اور دوسرا درجہ ثواب کا ہے کہ اتنی مقدار کھائے جس سے کھڑے ہو کر نماز پڑھی جاسکے اور روزہ سہولت سے رکھ سکے۔ تیسرا درجہ جائز کا ہے اور وہ نمبر (۲) کی مقدار پر پیٹ بھرنے کی مقدار تک اضافہ ہے تاکہ بدن میں قوت پیدا ہو۔ اس درجہ میں نہ تو ثواب ہے نہ گناہ ہے۔ معمولی حساب اس میں ہے بشرطے کہ مال حلال طریقہ سے حاصل ہوا ہو۔ . چوتھا درجہ حرام ہے۔ وہ پیٹ بھرنے سے زائد مقدار ہے۔ البتہ اس درجہ میں اگر مقصود روزہ پر قوت ہو کہ کل کو روزہ رکھنا ہے، یا یہ غرض ہو کہ مہمان بھوکا نہ رہے تو اس مقدار میں بھی مضائقہ نہیں۔ او ر کم کھانے کا ایسا مجاہدہ جس سے فرائض میں نقصان آجاوے جائز نہیں۔ البتہ اگر اس میں نقصان نہ آوے تو کم کھانے کا مجاہدہ کرنے میں مضائقہ نہیں ...