دعوت وتبلیغ کے اصول و احکام پارٹ1
کتاب:دعوت وتبلیغ کے اصول و احکام/ص۲۵۰
مؤلف:مفتی محمد زید مظاہری ندوی دامت برکاتہم
دعوت وتبلیغ کے لئے مدارس کا قیام بہت ضروری ہے یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ جب انبیاء علیہ السلام نے مدرسہ نہیں بنایا تو مدرسہ بے کار ہیں۔ یہ بیکار نہیں ہیں۔ یہ ایسے ہیں جیسے نماز کیلئے وضو، کہ جس طرح نماز کے لئے وضوضروری ہے اسی طرح تبلیغ واشاعت دین کیلئے مدارس کا وجود ضروری ہے۔ وہاں تو مدارس کی ضرورت اس لئے نہ تھی کہ علوم کا محفوظ رہنا عادہ ان پر موقوف نہ تھا۔ سماع ( سننے ) سے علوم محفوظ تھے۔ اور وہاں رات دن ان کی تبلیغ واشاعت ہی سے کام تھا۔ سفر میں ، حضر میں، چلتے پھرتے ،
اٹھتے بیٹھتے ان حضرات کا شغل دعوت الی اللہ ہی تھا۔ اب رہا یہ کہ پڑھنا پڑھانا پھر کیوں ضروری ہوا۔ اصل تو یہی تھا کہ ایک دوسرے کو یوں ہی کہتا رہے۔ مگر نہ سلف کا سا تقویٰ رہا۔ نہ حافظہ ۔ اگر ایسے ہی رہنے دیا جاتا تو یہ اطمینان نہ تھا کہ سنے ہوئے مسائل یاد
رہیں گے ۔ دوسرے تقویٰ کی کمی سے دیانت بھی روز بروز کم ہو جاتی ہے۔ تو اس حالت میں یہ بھی اعتماد نہ تھا۔ کہ ( دین کی بات جو ) یہ نقل کرتا ہے یہ ٹھیک بھی ہے یا اپنی طرف سے کچھ کمی بیشی کر رہا ہے۔ جب یہ آثار ظاہر ہونے لگے تو سلف صالحین کو توجہ ہوئی کہ دین کو ضبط کرنا چاہئے ۔ تو تبلیغ واشاعت کے لئے علم صحیح کی ضرورت تھی اور اس کے محفوظ رکھنے کے لئے کتابوں کے لکھے جانے کی ضرورت ہوئی .... اس طرح مدارس کی ضرورت پیدا ہوگئی ۔ کیوں کہ ناقص کی تبلیغ کا کچھ اعتبار نہیں تو تعلیم و تعلم بھی تبلیغ کی ایک فرد ہے۔
الدعوت الی اللہ ص ۲۴، آداب التبلیغ ص (۱۰۵
منقول
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں