اشاعتیں

اگست, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دعوت وتبلیغ کے اصول و احکام پارٹ2

 کتاب:دعوت وتبلیغ کے اصول و احکام/ص۲۵۲ مؤلف:مفتی محمد زید مظاہری ندوی دامت برکاتہم تبلیغ میں غلو تعلیم کو چھوڑ کر تبلیغ میں جانے کی ممانعت ہم لوگوں میں کام کے وقت غلو ہو جاتا ہے کہ بس جدھر رخ کرتے ہیں ، سب ایک ہی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں، اس لئے تبلیغ کی ضرورت بیان کرتے ہوئے مجھے اندیشہ ہے کہ کبھی ایسا نہ ہو کہ مدرسین وطلبہ پڑھنا پڑھانا چھوڑ دیں بلکہ اس کو اپنے بزرگوں سے پوچھو کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے ۔ آیا سبق چھوڑ کر چلے جائیں یا پڑھتے رہیں۔ یا ایک وہاں سے چلا آئے پھر دوسرا جائے ۔ غرض اپنی رائے سے کچھ نہ کرو۔ ورنہ بجائے اصلاح کے فساد ہوگا۔ میں نے اس کو قصداً عرض کیا ہے کیونکہ میں یہ رنگ دیکھ رہا ہوں کہ آج کل وہ طلبہ بھی جو علم سے فارغ نہیں ہوئے ۔ تبلیغ میں مشغول ہونا چاہتے ہیں۔ میرے نزدیک ان کے لئے تکمیل علم پہلے ضروری ہے کیونکہ اگر یہ پڑھنا پڑھانا نہ ہوتو تصنیف وتبلیغ وغیرہ بھی سب بیکار ہے کیوں کہ ناقص ( جاہل) کی تبلیغ وغیرہ کا کچھ اعتبار نہیں علم نہ ہونے کی وجہ سے خود بھی گمراہ ہوگا دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا ) بلکہ اس طرح تو چند روز میں علم بالکل نا پید ہو جائے گا تو تعلیم وتعلم ( درس ...

دعوت وتبلیغ کے اصول و احکام پارٹ1

 کتاب:دعوت وتبلیغ کے اصول و احکام/ص۲۵۰ مؤلف:مفتی محمد زید مظاہری ندوی دامت برکاتہم دعوت وتبلیغ کے لئے مدارس کا قیام بہت ضروری ہے یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ جب انبیاء علیہ السلام نے مدرسہ نہیں بنایا تو مدرسہ بے کار ہیں۔ یہ بیکار نہیں ہیں۔ یہ ایسے ہیں جیسے نماز کیلئے وضو، کہ جس طرح نماز کے لئے وضوضروری ہے اسی طرح تبلیغ واشاعت دین کیلئے مدارس کا وجود ضروری ہے۔ وہاں تو مدارس کی ضرورت اس لئے نہ تھی کہ علوم کا محفوظ رہنا عادہ ان پر موقوف نہ تھا۔ سماع ( سننے ) سے علوم محفوظ تھے۔ اور وہاں رات دن ان کی تبلیغ واشاعت ہی سے کام تھا۔ سفر میں ، حضر میں، چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے ان حضرات کا شغل دعوت الی اللہ ہی تھا۔ اب رہا یہ کہ پڑھنا پڑھانا پھر کیوں ضروری ہوا۔ اصل تو یہی تھا کہ ایک دوسرے کو یوں ہی کہتا رہے۔ مگر نہ سلف کا سا تقویٰ رہا۔ نہ حافظہ ۔ اگر ایسے ہی رہنے دیا جاتا تو یہ اطمینان نہ تھا کہ سنے ہوئے مسائل یاد رہیں گے ۔ دوسرے تقویٰ کی کمی سے دیانت بھی روز بروز کم ہو جاتی ہے۔ تو اس حالت میں یہ بھی اعتماد نہ تھا۔ کہ ( دین کی بات جو ) یہ نقل کرتا ہے یہ ٹھیک بھی ہے یا اپنی طرف سے کچھ کمی بیشی کر رہ...