👀 الأقارب عقارب 👀 یہ عربی ضرب المثل ہے جس کا مطلب ہے کہ: رشتے دار دکھ تکلیف دینے کے معاملے میں بالکل بچھو کی مانند ہوتے ہیں۔ اس ضرب المثل میں ایک تنبیہہ موجود ہے کہ معاملات میں رشتے داروں سے ایسے ہی بچیئے جیسے آپ بچھو کے ڈنک مارنے سے بچتے ہیں۔ عباسی خلیفہ - عالم، شاعر اور ادیب عبدالله بن المُعتَزّ کہتا ہے: لحومهم لحمي وهم يأكلونه وما داهيات المرء إلا أقاربه مطلب: ان کا گوشت بھی میرا گوشت ہی تھا اور یہ مجھے کھانے لگے۔ زندگی کے جتنے تلخ قصے ہیں یہ سب رشتے داروں کی وجہ سے بنتے ہیں۔ مشہور عرب فلاسفر أبو يوسف يعقوب ابن اسحق الصباح الكنْدي کہتا ہے: أقاربك العقارب في أذاها فلا تركن إلى عّم وخال فكم عّم أتاك الغم منه وكم خالٍ من الخيرات خال مطلب: اذیتیں دینے میں تیرے رشتے دار بچھو کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ نہ چچا کو چھوڑتے ہیں اور نہ ماموں کو دیکھتے ہیں۔ کتنے ایسے چاچے ہیں جن سے بس غم ہی ملتے ہیں۔ اور کتنے ایسے مامے ہیں جو خیر و برکت سے خالی ہوتے ہیں 👍👍👍👍👍👍👍👍 کاپی پیسٹ
اشاعتیں
اپریل, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
اسلام کا پہلا مرکز ۔& . زمزم کی کھدائی
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
اسلام کا پہلا مرکز اسلام کا پہلا مرکز حضرت صہیب اور حضرت عمار رضی اللہ عنہما دونوں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے. آپ نے دونوں کو اپنے پاس بٹھایا. جب یہ بیٹھ گئے تو آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کریم کی جو آیات آپ پر اس وقت تک نازل ہو چکی تھیں ، وہ پڑھ کر سنائیں . ان دونوں نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا. اسی روز شام تک یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس رہے. شام کو دونوں چپکے سے چلے آئے، حضرت عمار رضی اللہ عنہ سیدھے اپنے گھر پہنچے تو ان کے ماں باپ نے ان سے پوچھا کہ دن بھر کہاں تھے. انہوں نے فوراً ہی بتا دیا کہ وہ مسلمان ہو چکے ہیں . ساتھ ہی انہوں نے ان کے سامنے بھی اسلام پیش کیا اور اس دن انہوں نے قرآن پاک کا جو حصہ یاد کیا تھا وہ ان کے سامنے تلاوت کیا. ان دنوں کو یہ کلام بے حد پسند آیا. دونوں فورا ہی بیٹے کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے. اسی بنیاد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو الطیب المطیب کہا کرتے تھے یعنی پاک باز اور پاک کرنے والے. اسی طرح حضرت عمران رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو کچھ عرصے بعد ان کے والد ح...
سیرت النبیﷺ قدم بقدم
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
اسلام کا پہلا مرکز حضرت صہیب اور حضرت عمار رضی اللہ عنہما دونوں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے. آپ نے دونوں کو اپنے پاس بٹھایا. جب یہ بیٹھ گئے تو آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کریم کی جو آیات آپ پر اس وقت تک نازل ہو چکی تھیں ، وہ پڑھ کر سنائیں . ان دونوں نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا. اسی روز شام تک یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس رہے. شام کو دونوں چپکے سے چلے آئے، حضرت عمار رضی اللہ عنہ سیدھے اپنے گھر پہنچے تو ان کے ماں باپ نے ان سے پوچھا کہ دن بھر کہاں تھے. انہوں نے فوراً ہی بتا دیا کہ وہ مسلمان ہو چکے ہیں . ساتھ ہی انہوں نے ان کے سامنے بھی اسلام پیش کیا اور اس دن انہوں نے قرآن پاک کا جو حصہ یاد کیا تھا وہ ان کے سامنے تلاوت کیا. ان دنوں کو یہ کلام بے حد پسند آیا. دونوں فورا ہی بیٹے کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے. اسی بنیاد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو الطیب المطیب کہا کرتے تھے یعنی پاک باز اور پاک کرنے والے. اسی طرح حضرت عمران رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو کچھ عرصے بعد ان کے والد حضرت حصین رضی اللہ عنہ بھی مس...
پہلا پارہ کا خلاصہ
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
*🌹السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبـــــــــرکاتہ🌹* *🪴بسم للہ الصلاة والسلام على رسول الله🪴* *⬇قـــــــــــرآن کریـــــــــــــم🌹پہــلا پــارہ⬇* اس پارے میں پانچ باتیں ہیں: 1۔اقسام انسان 2۔اعجاز قرآن 3۔قصۂ تخلیقِ حضرت آدم علیہ السلام 4۔احوال بنی اسرائیل 5۔قصۂ حضرت ابراہیم علیہ السلام 1۔اقسام انسان تین ہیں: مومنین ، منافقین اور کافرین۔ مومنین کی پانچ صفات مذکور ہیں: ۱۔ایمان بالغیب ۲۔اقامت صلوۃ ۳۔انفاق ۴۔ایمان بالکتب ۵۔یقین بالآخرۃ منافقین کی کئی خصلتیں مذکور ہیں: جھوٹ، دھوکا، عدم شعور، قلبی بیماریاں، سفاہت، احکام الٰہی کا استہزائ، فتنہ وفساد، جہالت، ضلالت، تذبذب۔ اور کفار کے بارے میں بتایا کہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ ہے۔ 2۔اعجاز قرآن: جن سورتوں میں قرآن کی عظمت بیان ہوئی ان کے شروع میں حروف مقطعات ہیں یہ بتانے کے لیے کہ انھی حروف سے تمھارا کلام بھی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی، مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام جیسا کلام بنانے سے عاجز ہو۔ 3۔قصۂ حضرت آدم علیہ السلام : اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانا، فرشتوں کا انسان کو فسا...