اشاعتیں

اگست, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

*یومِ آزادی*

 *یومِ آزادی* 14/8/2022 ۱۵/۱/١٤٤٤/  بقلم مولانا ناظم صاحب ملی  استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا مہاراشٹرا  (مندرجۂ ذیل مضمون مولانا کی رقم کردہ ایک پرمغز تقریر ہے جو یومِ آزادی کی حقیقت بیانی پرمشتمل ہے۔ افادۂ عام کی خاطر اسے واٹساپ پر بھی ارسال کیا جارہاہے)(محمد رمیز) *الحمد للّٰه وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده أما بعد!* میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے مِرا وطن وہی ہے مِرا وطن وہی ہے *معزز صدرِ جلسہ*:- *ذیشان جج صاحبان*- *شمعِ نبوت کے پروانوں*! ہندوستان جنت نشان جس کو مسلمانوں نے ہر طرح بنایا سنوارا اور اس کو سولہ سنگھار لگایا۔بڑی شان و شوکت ، عظمت وافتخار ، محبت واُخوت دے کر اس کے اَنگ اَنگ کو رعنائی بخشی۔ جی ہاں مسلمانوں ، بالخصوص علما ءِ کرام نے اپنے اس پیارے ملک کو تہذیبی ، تمدنی، تاریخی لِسانی،جمالیاتی الغرض ہر پہلوِ زندگی سے آشنا اور مزین کیا۔ ترقی دی ، خوشحال و مالا مال کیا۔ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے اس ملک سے محبت میں یہ تک کہہ دیا‌۔ اگر  جنت  برروئے   زمین    است ہمیں است ہمیں است ہمیں است اور یہ بھی مسلمانو...

سنی سنائی باتوں پر یقین ؟

  سنی سنائی باتوں پر یقین    شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اللہ تعالیٰ نے انسان کی صلاحیتوں کومحدود رکھا ہے ، اس کی قوتیں ایک خاص دائرہ میں کام کرتی ہیں ، مثلاً انسان کو ایک بہت بڑی نعمت دیکھنے کی دی گئی ہے ، پتھر اور لوہے کس قدر مضبوط ہیں ، سمندر کا دامن کس قدر وسیع اور بے پناہ ہے ؛ لیکن وہ دیکھ نہیں سکتے، انھوں نے آج تک خود اپنے حسن و جمال کو بھی دیکھا نہیں ہوگا ؛ لیکن انسان ایک خاص حد تک ہی چیزوں کو دیکھ سکتا ہے ، اگر کوئی رکاوٹ نہ بھی ہو تو انسان کو آدھے ایک کیلومیٹر سے آگے کی چیزیں صاف نظر نہیں آتیں ، اگر بیچ میں دیوار حائل ہو تو بالکل قریب کی چیزوں کو بھی وہ نہیں دیکھ سکتا ، انسان میں سننے کی صلاحیت رکھی گئی ہے ؛ لیکن اس کا بھی یہی حال ہے ، اس کی سماعت کا دائرہ چند فرلانگ تک ہوتا ہے ، یہ بھی اس وقت ہے کہ جب کوئی چیز حائل نہ ہو ، ورنہ دو کمروں کے بیچ چند انچ کی دیوار ہوتی ہے اور ایک طرف کی آواز دوسری طرف بالکل سنائی نہیں پڑتی ، انسان کے دیکھنے اور سننے کے دائرہ کو جو محدود رکھا گیا ۔ بظاہر یہ ایک محرومی معلوم ہوتی ہے ؛ لیکن حقیقت میں یہ بجائے خود اللہ...

علماء کے خون سے رنگین ہے داستان آزادی ہند

ناقل محمد جمیل   بسم اللہ الرحمن الرحیم  يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ۔(الحجرات: ۱۳)  ترجمہ: اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور مختلف خاندان اور کنبے بنادیئے ہیں؛ تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو، یقیناً اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے، جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہو، یقیناً اللہ بہت جاننے والے اور بہت باخبر ہیں۔ تمہید پندرہ اگست کو پورے ہندوستان میں یوم آزادی منائی جاتی ہے، ترنگا لہرایا جاتا ہے، خوشیاں منائی جاتی ہیں، مٹھائیاں اور چاکلیٹ تقسیم کیے جاتے ہیں،یہ دن اور اس کی خوشیاں جو اس ملک کو نصیب ہوئیں وہ اس وجہ سے کہ ہمارے اکابر اور اسلاف نے اس ملک کو آزاد کرانے کے لیے جانوں کی بازی لگائی، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جنگ آزادی کا مختصر تذکرہ کیا جائے، اور اس بات کا بھی تذکرہ کیا جائے کہ کیا ہمارا ملک واقعی ایک جمہوری اور آزاد ملک ہے؟ کیاہم ہمارے ملک میں آزادی سے سانسیں لے رہے ...

جنگ آزادی میں مدارس اسلامیہ کے علمائے کرام کی قربانیاں

  جنگ آزادی میں مدارس اسلامیہ کے علمائے کرام کی قربانیاں ناقل محمد جمیل اشاعتی مدارس اسلامیہ ہند نے  جہالت و ناخواندگی کے قلع قمع ، علوم و فنون کی تعلیم و اشاعت اور ملت اسلامیہ کی دینی و ملی قیات و رہنمائی کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا ہے ؛ بلکہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں بھی ان مدرسوں کی خدمات بڑی روشن ہیں ، بالخصوص برطانوی سامراج کے ظلم و استبداد اور غلامی و محکومی سے نجات دلانے اور ابنائے وطن کو عروسِ حریت سے ہم کنار کرانے میں ، مدارس اسلامیہ اور ان کے قائدین کی قربانیاں آب زر سے لکھی جانے کے قابل ہیں ، وہ مدارس اسلامیہ کے جاں باز علماء کرام ہی تو تھے جنھوں نے ملک میں آزادی کا صور اس وقت پھونکا جب عام طور پر دیگر لوگ خواب غفلت میں مست ، آزادی کی ضرورت و اہمیت سے نابلد اور احساسِ غلامی سے بھی عاری تھے ۔ اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی ۔ نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا ۔ مگر یہ بھی بڑا قومی المیہ ہے کہ ۱۵/ اگست کے تاریخ ساز اور یادگار قومی دن کےیاد کیا جاتا ہے ، ان کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے ، تو ان علماء کرام اور مجاہدین حریت کو یکسر نظر انداز کردیا جات...

جنگ آزادی میں مسلمانوں کا اہم کردار

 آپ سے گزارش ہے کے جتنے گروپس آپ سےرابطے میں ہےان سب گروپس میں اس فارورڈ کیجیے...  تاکہ لوگ جان سکے کہ کتنے مسلمانوں نے جنگ آزادی میں اپنی جان کی قربانی دی...  وہ ہستیاں جنہوں نےتحریک جنگ آزادی میں اپنا سرکٹاکر کردار ادا کیا:  1. 🇮🇳انگریزوں کے خلاف اٹھنے والی پہلی آواز  نواب سراج الدولہ۔  2.🇮🇳شیر میسور ٹی پی یو  سلطان شہید۔  3.🇮🇳حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔  4.🇮🇳حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی  5.🇮🇳حضرت سید احمد شہید۔  6.🇮🇳حضرت مولانا ولایت علی صادق پوری۔  7.🇮🇳ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ  ظفر۔  8.🇮🇳علامہ فضل الحق خیرآبادی۔  9۔شہزادہ فیروز شاہ۔  10.🇮🇳مولوی محمد باقر شہید۔  11.🇮🇳بیگم حضرت محل۔  12.🇮🇳مولانا احمد اللہ شاہ۔  13.🇮🇳 نواب خان بہادر خان۔  14.🇮🇳 عزیزان بائی۔  15.🇮🇳شاہ عبدالقادر لدھیانوی  16.🇮🇳حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی.  17.🇮🇳حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی.  18.🇮🇳حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی۔  19.🇮🇳شیخ الہند حضرت...

ماہ محرم الحرام اور یوم عاشوراء*

 * ماہ محرم الحرام اور یوم عاشوراء*   از: مولانا ابوجندل قاسمی              ‏ استاذ مدرسہ قاسم العلوم، تیوڑہ، ضلع مظفرنگر یوپی         .  .  *یوم عاشوراءزمانے جاہلیت میں*  یوم عاشوراء زمانہٴ جاہلیت میں قریشِ مکہ کے نزدیک بڑا محترم دن تھا، اسی دن خانہٴ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا اور قریش اس دن روزہ رکھتے تھے، قیاس یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کچھ روایات اس کے بارے میں ان تک پہنچی ہوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ قریش ملتِ ابراہیمی کی نسبت سے جو اچھے کام کرتے تھے، ان کاموں میں آپ ان سے اتفاق واشتراک فرماتے تھے، اسی بنا پر حج میں بھی شرکت فرماتے تھے، اپنے اس اصول کی بنا پر آپ قریش کے ساتھ عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے؛ لیکن دوسروں کو اس کا حکم نہیں دیتے تھے، پھر جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے اور یہاں یہود کو بھی آپ نے عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا اور ان کی یہ روایت پہنچی کہ یہ وہ مبارک تاریخی دن ہے، جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے نجات عط...