*🍁بسم اللہ الرحمن الرحیم🍁نکاح کےمقاصد/3🥀دونوں کوعزت مل جائے،جب شادی ہوجاتی ہےتوخاوندبیوی کےلیےعزت کاسبب اوربیوی خاوندکےلیے عزت کاسبب بنتی ہیں-﴿4﴾چوتھامقصد محبت کاملنا،کہ میاں بیوی ایک دوسرےکومحبتیں دیتےہیں-﴿5﴾شریک حیات کاملنا،کہ انسان زندگی کاساتھی پالیتاہےزندگی کےحالات کےاتارچڑھاؤمیں کوئی اس کااپناہوتاہےوہ ایک دوسرےکےساتھ شیئرکرسکتےہیں-دونوں کومل کرزندگی کےغموں کابوجھ اٹھاسکتےہیں-﴿6﴾اولادکاہونا،چنانچہ فطری خواہش ہےہرانسان کی کہ اولادہو،انبیاء کرام جیسی بزرگ ہستیاں بھی اللہ سے اولادکےلیےدعائیں مانگتی رہیں-حضرت زکریہؑ نےدعامانگی-اے میرےپرودگار!اتنابوڑھاہوگیاہوں کہ میری ہڈیاں بوسیدہوگئیں اورمیرےبال سفیدہوگئے،لیکن ابھی بھی میں آپ کےدرگاہ سےاس نعمت کےحاصل کرنےمیں مایوس نہیں ہوا،میں ابھی بھی دعا مانگتاہوں-تو دیکھوں بڑھاپےمیں بھی انسان کی یہ تمناہوتی ہے،اسی طرح ہرعورت کےدل کی فطری خواہش ہوتی ہےکہ اللہ مجھےاولادکی نعمت عطافرمائے-* *📚گھرجنت کیسےبنے
اشاعتیں
جنوری, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
بستیاں کیوں ویران نہ ہوتی ہے؟
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
اُلو نے بتایا بستیاں کیوں ویران ہوتی ہیں؟ کہتے ہیں کہ ایک طوطا طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ہوا، ویرانی دیکھ کر طوطی نے طوطے سے کہا: کس قدر ویران گاؤں ہے؟ طوطے نے کہا: لگتا ہے یہاں کسی الو کا گزر ہوا ہے! جس وقت طوطا طوطی باتیں کر رہے تھے، عین اسی وقت ایک الّو بھی وہاں سے گزر رہا تھا، اس نے طوطے کی بات سنی اور وہاں رک کر ان سے مخاطب ہوکر بولا: تم لوگ اس گاؤں میں مسافر لگتے ہو آج رات تم لوگ میرے مہمان بن جاؤ میرے ساتھ کھانا کھاؤ اُلو کی محبت بھری دعوت سے طوطے کا جوڑا انکار نہ کرسکا اور انہوں نے اُلو کی دعوت قبول کرلی ، کھانا کھا کر جب انہوں نے رخصت ہونے کی اجازت چاہی، تو اُلو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: تم کہاں جا رہی ہو ؟ طوطی پریشان ہوکر بولی: یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ میں اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا رہی ہوں ۔ الو یہ سن کر ہنسا ۔ اور کہا : یہ تم کیا کہہ رہی ہو تم تو میری بیوی ہو اس پہ طوطا طوطی الو پر جھپٹ پڑے اور گرما گرمی شروع ہو گئی ، دونوں میں جب بحث و تکرار زیادہ بڑھی تو اُلو نے طوطے کے ...
کوی شوہر اپنی بیوی سے پاگل پن کی حد تک پیار کیسے کرسکتا ہے؟
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
کوئی شوہر اپنی بیوی سے پاگل پن کی حد تک پیار کیسے کرسکتا ہے؟ ایک بوڑھی خاتون کا انٹرویو جنہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ پچاس سال کا عرصہ پرسکون طریقے سے ہنسی خوشی گزارا۔ خاتون سے پوچھا گیا کہ اس پچاس سالہ پرسکون زندگی کا راز کیا ہے؟ کیا وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھیں؟ یا پھر ان کی خوبصورتی اس کا سبب ہے؟ یا ڈھیر سارے بچوں کا ہونا اس کی وجہ ہے یا پھر کوئی اور بات ہے؟ بوڑھی خاتون نے جواب دیا: پرسکون شادی شدہ زندگی کا دار ومدار اللہ کی توفیق کے بعد عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے، عورت چاہے تو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور چاہے تو اس کے برعکس یعنی جہنم بھی بنا سکتی ہے، اس سلسلے میں مال ودولت کا نام مت لیجیے، بہت ساری مالدار عورتیں جنکی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، شوہر ان سے بھاگا بھاگا رہتا ہے۔ خوشحال شادی شدہ زندگی کا سبب اولاد بھی نہیں ہے، بہت ساری عورتیں ہیں جن کے چھ چھ سات سات بچے ہیں پھر بھی وہ شوہر کی محبت سے محروم ہیں بلکہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے بہت ساری خواتین اعلیٰ سے اعلیٰ ترین کھانا پکانے میں ماہر ہوتی ہیں دن دن بھر نئے سے نیا کھانا بناتی رہتی ہیں لیکن پھر ب...