اشاعتیں

دسمبر, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مضمون نگاری کے چند اصول 2

 بقیہ : نانا جان کی زندگی ۔۔۔ ☜ "چورہ چورہ"——— یہ لفظ "ہ" کے بجاۓ "ا" سے آتا ہے : چورا چورا ☜ "کمزوری"——— اس کو یوں لکھیے : کم زوری ☜ "پھولوں کو لئے"——— "لئے" میں ہمزہ کے بجاۓ "ی" آنی چاہیے : لیے ☜ "اپنے جذبات پے قابو"——— :پے" "ے" سے نہیں ؛ بلکہ" ہ" سے آتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ نثر میں اس "پہ" کا استعمال تقریبا نا کے برابر ہے۔ بعض لوگ اس کی بڑی مخالفت کرتے ہیں۔ مگر شاعری میں اس کی گنجائش ہے۔ ☜ "آخیر" ——— اس کو یوں لکھا جاتا ہے : آخر یا پھر اس طرح اخیر ☜ "صورتحال"——— اس کو یوں لکھیے : صورت حال  ☜ "سورہ یاسین شریف کی تلاوت نانا جان کے کانوں پر پڑھی جانے لگی"——— اس کو یوں ہونا چاہیے : سورہ یاسین کی تلاوت نانا جان کے کانوں کے سامنے کی جانے لگی یا سورہ یاسین نانا جان کے کانوں کے سامنے پڑھی جانے لگی۔ ☜ رب کی عطاء کی ہوئی —–یہاں پر :عطاء" کے آخر میں ہمزہ نہیں آۓ گا۔ اسی طرح علما ، فضلا اور شرفا جیسے الفاظ کے آخر میں بھی ہمزہ نہیں آتا ہے۔ ہاں جب یہ...

مضمون نگاری کے چند اصول

 بقیہ : بچھڑا کچھ اس ادا سے ۔۔۔ (چوتھی قسط) ☜ "کوئی قصر نہ چھوڑتے" ——— اس محاورے میں "قصر" بڑے "قاف" اور "صاد" سے نہیں ؛ بلکہ چھوٹے 'کاف' اور 'سین' سے لکھا جاتا ہے۔ یوں : کسر ☜ "علمی ، و عملی میدان" ——— یہاں سکتے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ☜ ۔۔۔ "یادیں ہی یاد گار بن کر رہ گئی۔"——— یہ جملہ مفہوم و معنی کے لحاظ سے زیادہ ٹھیک نہیں۔ ☜ "علماء ، اولیاء صلحاء ،" ——— اس سے پہلے بہت سی دفعہ یہ ضابطہ آ چکا ہے کہ علما ، فضلا اور صلحا جیسے الفاظ کے آخر میں ہمزہ نہیں آتا۔ صرف اس صورت میں آتا ہے ، جب کہ اس طرح کے الفاظ مضاف یا موصوف بنیں۔ جیسے : علماء ہند ، فضلاء مدارس اور فقراء بے دست و پا وغیرہ۔ ☜ "عشاء" ——— اس کو بھی علما اور صلحا وغیرہ پر قیاس کیجیے! ☜ "عالم اسلام کی شہرت یافتہ ام المدارس دارالعلوم دیوبند" ——— اس کو یا تو یوں لکھنا چاہیے : 'عالم اسلام کی شہرت یافتہ عظیم دینی درس گاہ ام المدارس دارالعلوم دیوبند' یا پھر یوں : عالم اسلام کا شہرت یافتہ ادارہ/ دینی درس گاہ)/ عظیم دینی درس گا...

پارہ نمبر 10 کے اہم مضامین

 پارہ نمبر 10 کے اہم مضامین دسواں پارہ​ اس پارے میں دو حصے ہیں: ۱۔ سورۂ انفال کا بقیہ حصہ ۲۔ سورۂ توبہ کا ابتدائی حصہ (۱) سورۂ انفال کے بقیہ حصے میں پانچ باتیں یہ ہیں: ۱۔ مال غنیمت کا حکم ۲۔ غزوۂ بدر کے حالات ۳۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب ۴۔ جنگ سے متعلق ہدایات ۵۔ ہجرت اور نصرے کے فضائل ۱۔ مال غنیمت کا حکم: مال غنیمت کا حکم یہ بیان ہوا کہ خمس نبی علیہ السلام آپ کے اقرباء یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور باقی چار حصے مجاہدین کے لیے ہیں۔ ۲۔ غزوۂ بدر کے حالات: (۱) کفار مسلمانوں کو اور مسلمان کفار کو تعداد میں کم سمجھے اور ایسا اس لیے ہوا کہ اس جنگ کا ہونا اللہ کے ہاں طے ہوچکا تھا۔ (۲) شیطان مشرکین کے سامنے ان کے اعمال کو مزین کرکے پیش کرتا رہا دوسری طرف مسلمانوں کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے نازل ہوئے۔ (۳) قریش غزوۂ بدر میں ذلیل و خوار ہوئے۔ ۳۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب: (۱) میدان جنگ میں ثابت قدمی۔ (۲) اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے۔ (۳) اختلاف اور لڑائی سے بچ کر رہنا۔ (۴) مقابلے میں نا موافق امور پر صبر۔ ۴۔ جنگ سے متعلق ہدایات: (۱) دشمنوں سے مقابلے کے لیے مادی...

پارہ نمبر 9 کے اہم مضامین

 پارہ نمبر 9 کے اہم مضامین نواں پارہ​ اس پارے میں دو حصے ہیں:​ ۱۔ سورۂ اعراف کا بقیہ حصہ ۲۔ سورۂ انفال کا ابتدائی حصہ (۱) سورۂ اعراف کے بقیہ حصے میں چھ باتیں یہ ہیں:​ ۱۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی قصہ ۲۔ عہد الست کا ذکر ۳۔ بلعم بن باعوراء کا قصہ ۴۔ تمام کفار چوپائے کی طرح ہیں ۵۔ قیامت کا علم کسی کو نہیں ۶۔ قرآن کی عظمت بلعم بن باعوراء کا قصہ: فتح مصر کے بعد جب بنی اسرئیل کو قوم جبارین سے جہاد کرنے کا حکم ملا تو جبارین ڈرگئے اور بلعم بن باعوراء کے پاس آئے کہ کچھ کرو، بلعم کے پاس اسم اعظم تھا، اس نے پہلے تو اس کی مدد سے منع کیا، مگر جب انھوں نے رشوت دی تو یہ بہک گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرئیل کے خلاف بد دعائیہ کلمات کہنے شروع کیے، مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ وہ کلمات خود اس کے اور قوم جبارین کے خلاف نکلے، اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان نکال کر اس کو کتے کی طرح کردیا۔ فمثله كمثل الكلب (۲) سورۂ انفال کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں تین باتیں یہ ہیں:​ ۱۔ غزوہ بدر اور مال غنیمت کا حکم ۲۔ مومنین کی پانچ صفات ۳۔ چھ بار مومنین سے خطاب مومنین کی پانچ صفات یہ ہیں: (...

آٹھواں پارہ​ اس پارے میں دو حصے

 آٹھواں پارہ​ اس پارے میں دو حصے ہیں: ۱۔ سورۂ انعام کا بقیہ حصہ ۲۔سورۂ اعراف کا ابتدائی حصہ (پہلا حصہ) سورۂ انعام کے بقیہ حصے میں چار باتیں ہیں: ۱۔ تسلی رسول ۲۔ مشرکین کی چار حماقتیں ۳۔ اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں ۴۔ دس وصیتیں ۱۔ تسلی رسول: اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہے کہ یہ لوگ ضدی ہیں، معجزات کا بے جا مطالبہ کرتے رہتے ہیں، اگر مردے بھی ان سے باتیں کریں تو یہ پھر بھی ایمان نہ لائیں گے، قرآن کا معجزہ ایمان لانے کے لیے کافی ہے۔ ۲۔ مشرکین کی چار حماقتیں: ۱۔ یہ لوگ چوپایوں میں اللہ تعالیٰ کا حصہ اور شرکاء کا حصہ الگ الگ کردیتے، شرکاء کے حصے کو اللہ تعالیٰ کے حصے میں خلط نہ ہونے دیتے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا حصہ شرکاء کے حصے میں مل جاتا تو اسے برا نہ سمجھتے۔ (آیت:۱۳۵) ۲۔ فقر یا عار کے خوف سے بیٹیوں کو قتل کردیتے۔ (آیت:۱۳۶) ۳۔ چوپایوں کی تین قسمیں کر رکھی تھیں: ایک جو ان کے پیشواؤں کے لیے مخصوص، دوسرے وہ جن پر سوار ہونا ممنوع، تیسرے وہ جنھیں غیر اللہ کے نام سے ذبح کرتے تھے۔ (آیت:۱۳۸) ۴۔ چوپائے کے بچے کو عورتوں پر حرام سمجھتے اور اگر وہ بچہ مردہ ہوتا تو عورت اور مر...

پارہ نمبر 7 کے اہم مضامین

 پارہ نمبر 7 کے اہم مضامین  ساتواں پارہ​ اس پارے میں دو حصے ہیں:​ ۱۔ سورۂ مائدہ کا بقیہ حصہ ۲۔ سورۂ انعام ابتدائی حصہ (پہلا حصہ) سورۂ مائدہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں:​ ۱۔ حبشہ کے نصاری کی تعریف ۲۔ حلال وحرام کے چند مسائل ۲۔ قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۱۔ حبشہ کے نصاری کی تعریف: جب ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو اسے سن کر ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں۔ ۲۔ حلال وحرام کے چند مسائل: ۔۔۔ہر چیز خود سے حلال یا حرام نہ بناؤ۔ ۔۔۔لغو قسم پر مؤاخذہ نہیں، البتہ یمین غموس پر کفارہ ہے، یعنی دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا انھیں پہننے کے لیے کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور ان تینوں کے نہ کرسکنے کی صورت میں تین دن روزے رکھنا۔ ۔۔۔شراب، جوا، بت اور پانسہ حرام ہیں۔ ۔۔۔حالتِ احرام میں محرم تری کا شکار کرسکتا ہے، خشکی کا نہیں۔ ۔۔۔حرم میں داخل ہونے والے کے لیے امن ہے۔ ۔۔۔چار قسم کے جانور مشرکین نے حرام کر رکھے تھے بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔ ۲۔ قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سے پوچھا جائے گا کہ جب...

پارہ نمبر 6 کے اہم مضامین

 پارہ نمبر 6 کے اہم مضامین چھٹا پارہ​ اس پارے میں دو حصے ہیں: ۱۔ سورۂ نساء کا بقیہ حصہ ۲۔ سورۂ مائدہ کا ابتدائی حصہ (پہلا حصہ) سورۂ نساء کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں: ۱۔ یہود کی مذمت ۲۔ نصاری کی مذمت ۳۔ میراث ۱۔ یہود کی مذمت: انھوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی۔ ۲۔ نصاری کی مذمت: یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلو کا شکار کر عقیدۂ تثلیث کے حامل ہوگئے۔ ۳۔ میراث: عینی اور علاتی بہنوں کے حصے مذکور ہوئے کہ ایک بیٹی کو نصف ، ایک سے زیادہ کو دو ثلث اور اگر بھائی بھی ہوں تو لڑکے کو لڑکی سے دوگنا ملے گا۔ (دوسرا حصہ) سورۂ مائدہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں پانچ باتیں ہیں: ۱۔ اوفوا بالعقود (ہر جائز عہد اور عقد جو تمھارے اور رب کے درمیان ہو یا تمھارے اور انسانوں کے درمیان ہو اسے پورا کرو) ۲۔ حرام چیزیں (بہنے والا خون، خنزیر کا گوشت اور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو) ۳۔ طہارت (وضو ، تیمم اور غسل کے مسائل) ۴۔ ہابیل اور قابیل کا قصہ (قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تھا، قتل اور چوری کے اح...

پارہ نمبر 5 کے اہم مضامین

 پارہ نمبر 5 کے اہم مضامین پانچواں پارہ​ اس پارے میں آٹھ باتیں ہیں:​ ۱۔ خانہ داری کی تدابیر ۲۔ عدل اور احسان ۳۔ جہاد کی ترغیب ۴۔ منافقین کی مذمت ۵۔ قتل کی سزائیں ۶۔ ہجرت اور صلاۃ الخوف ۷۔ ایک قصہ ۸۔ سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب ۱۔ خانہ داری کی تدابیر: پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مرد سربراہ ہے عورت کا پھر نافرمان بیوی سے متعلق مرد کو تین تدبیریں بتائی گئیں: ایک یہ کہ اس کو وعظ و نصیحت کرے، نہ مانے تو بستر الگ کردے، اگر پھر بھی نہ مانے تو انتہائی اقدام کے طور پر حد میں رہتے ہوئے اس کی پٹائی بھی کرسکتا ہے۔ ۲۔ عدل واحسان: عدل و احسان کا حکم دیا گیا تاکہ اجتماعی زندگی بھی درست ہوجائے۔ ۳۔ جہاد کی ترغیب: جہاد کی ترغیب دی کہ موت سے نہ ڈرو وہ تو گھر بیٹھے بھی آسکتی ہے، نہ جہاد میں نکلنا موت کو یقینی بناتا ہے، نہ گھر میں رہنا زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ ۴۔ منافقین کی مذمت: منافقین کی مذمت کرکے مسلمانوں کو ان سے چوکنا کیا ہے کہ خبردار! یہ لوگ تمھیں بھی اپنی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں۔ ۵۔ قتل کی سزائیں: قتل کی سزائیں بیان کرتے ہوئے بڑا سخت لہجہ استعمال ہوا کہ مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والا ہم...

پارہ نمبر 4 کے اہم مضامین

 پارہ نمبر 4 کے اہم مضامین چوتھا پارہ​ اس پارے میں دو حصے ہیں:​ ۱۔ بقیہ سورۂ آل عمران ۲۔ ابتدائے سورۂ نساء (پہلا حصہ) سورۂ آل عمران کے بقیہ حصے میں پانچ باتیں ہیں:​ 1۔ خانہ کعبہ کے فضائل 2۔ باہمی جوڑ 3۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر 4۔ تین غزوے 5۔ کامیابی کے چار اصول 1۔ خانہ کعبہ کے فضائل: یہ سب سے پہلی عبادت گاہ ہے اور اس میں واضح نشانیاں ہیں جیسے: مقام ابراہیم۔ جو حرم میں داخل ہوجائے اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔  2۔ باہمی جوڑ: اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو۔ 3۔ امر بالمعروف اور نہی عن النکر: یہ بہترین امت ہے کہ لوگوں کی نفع رسانی کے لیے نکالی گئی ہے، بھلائی کا حکم کرتی ہے، برائی سے روکتی ہے اور اللہ پر ایمان رکھتی ہے۔ 4۔ تین غزوے: ۱۔غزوۂ بدر ۲۔غزوۂ حد ۳۔غزوۂ حمراء الاسد 5۔ کامیابی کے چار اصول: ۱۔صبر ۲۔مصابرہ ۳۔مرابطہ ۴۔تقوی (دوسرا حصہ) سورۂ نساء کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں چار باتیں ہیں:​ 1۔ یتیموں کا حق: (ان کو ان کا مال حوالے کردیا جائے۔) 2۔ تعدد ازواج: (ایک مرد بیک وقت چار نکاح کرسکتے ہیں بشرط ادائیگیٔ حقوق۔) 3۔ میراث: (اولاد ، ماں باپ ، بیوی ، کلالہ...

پارہ نمبر 3 کے اہم مضامین

 پارہ نمبر 3 کے اہم مضامین تیسرا پارہ​ اس پارے میں دو حصے ہیں: 1۔بقیہ سورۂ بقرہ 2۔ابتدائے سورۂ آل عمران (پہلا حصہ) سورۂ بقرہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں: ۱۔دو بڑی آیتیں ۲۔دو نبیوں کا ذکر ۳۔صدقہ اور سود ۱۔ دو بڑی آیتیں: ایک ”آیت الکرسی“ ہے جو فضیلت میں سب سے بڑی ہے، اس میں سترہ مرتبہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ دوسری ”آیتِ مداینہ“ جو مقدار میں سب سے بڑی ہے اس میں تجارت اور قرض مذکور ہے۔ ۲۔ دو نبیوں کا ذکر: ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مباحثہ اور احیائے موتٰی کے مشاہدے کی دعاء۔ دوسرے عزیر علیہ السلام جنھیں اللہ تعالیٰ نے سوسال تک موت دے کر پھر زندہ کیا۔ ۳۔ صدقہ اور سود: بظاہر صدقے سے مال کم ہوتا ہے اور سود سے بڑھتا ہے، مگر در حقیقت صدقے سے بڑھتا ہے اور سود سے گھٹتا ہے۔ (دوسرا حصہ) سورۂ آل عمران کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں چار باتیں ہیں: 1۔ سورۂ بقرہ سے مناسبت 2۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کے چار قصے 3۔اہل کتاب سے مناظرہ ، مباہلہ اور مفاہمہ 4۔ انبیائے سابقین سے عہد 1۔ سورۂ بقرہ سے مناسبت مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں قرآن کی حقانیت اور اہل کتاب سے خطاب ہے۔ سورہ...

پارہ نمبر 2 کے اہم مضامین

 پارہ نمبر 2 کے اہم مضامین  دوسرا پارہ​ اس پارے میں چار باتیں ہیں: 1۔تحویل قبلہ 2۔آیت بر اور ابوابِ بر 3۔قصۂ طاعون 4۔قصۂ طالوت 1۔تحویل قبلہ: ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس قبلہ رہا ، آپ ﷺ کی چاہت تھی کہ خانہ کعبہ قبلہ ہو، اللہ تعالیٰ نے آرزو پوری کی اور قبلہ تبدیل ہوگیا۔ 2۔آیتِ بر اور ابوابِ بر: لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ ۔۔۔۔ (البقرۃ:۱۷۷) یہ آیتِ بر کہلاتی ہے، اس میں تمام احکامات عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق اجمالی طور پر مذکور ہیں، آگے ابواب البر میں تفصیلی طور پر ہیں: ۱۔صفا مروہ کی سعی ۲۔مردار، خون، خنزیرکا گوشت اور جو غیر اللہ تعالیٰ کے نامزد ہو ان کی حرمت ۳۔قصاص ۴۔وصیت ۵۔روزے ۶۔اعتکاف ۷۔حرام کمائی ۸۔قمری تاریخ ۹۔جہاد ۱۰۔حج ۱۱۔انفاق فی سبیل اللہ تعالیٰ ۱۲۔ہجرت ۱۳۔شراب اور جوا ۱۴۔مشرکین سے نکاح ۱۵۔حیض میں جماع ۱۶۔ایلاء ۱۷۔طلاق ۱۸۔عدت ۱۹۔رضاعت ۲۰۔مہر ۲۱۔حلالہ ۲۲۔معتدہ سے پیغامِ نکاح۔ 3۔قصۂ طاعون: کچھ لوگوں پر طاعون کی بیماری آئی، وہ موت کے خوف سے دوسرے شہر چلے گئے، اللہ تعالیٰ نے (دو فرشتوں کو بھیج کر) انھیں موت دی (تاکہ ان...

پارہ نمبر 1 کے اہم مضامین

 *پارہ نمبر 1 کے اہم مضامین*  *پہلا پارہ​* اس پارے میں پانچ باتیں ہیں: 1۔اقسام انسان 2۔اعجاز قرآن 3۔قصۂ تخلیقِ حضرت آدم علیہ السلام 4۔احوال بنی اسرائیل 5۔قصۂ حضرت ابراہیم علیہ السلام 1۔اقسام انسان تین ہیں: مومنین ، منافقین اور کافرین۔ مومنین کی پانچ صفات مذکور ہیں: ۱۔ایمان بالغیب ۲۔اقامت صلوۃ ۳۔انفاق ۴۔ایمان بالکتب ۵۔یقین بالآخرۃ منافقین کی کئی خصلتیں مذکور ہیں: جھوٹ، دھوکا، عدم شعور، قلبی بیماریاں، سفاہت، احکام الٰہی کا استہزائ، فتنہ وفساد، جہالت، ضلالت، تذبذب۔ اور کفار کے بارے میں بتایا کہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ ہے۔ 2۔اعجاز قرآن: جن سورتوں میں قرآن کی عظمت بیان ہوئی ان کے شروع میں حروف مقطعات ہیں یہ بتانے کے لیے کہ انھی حروف سے تمھارا کلام بھی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی، مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام جیسا کلام بنانے سے عاجز ہو۔ 3۔قصۂ حضرت آدم علیہ السلام : اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانا، فرشتوں کا انسان کو فسادی کہنا، اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السالم کو علم دینا، فرشتوں کا اقرارِ عدم علم کرنا، فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ...

تکبیر تشریق احکام ومسائل

 *تکبیر تشریق احکام ومسائل*    بسم الله الرحمن الرحيم    *تشریق کسے کہتے ہیں ؟*     تشریق کے معنی ہیں گوشت کو دھوپ میں ڈالنا ۔ چوں کہ ان دنوں میں قربانی کا گوشت سُکھایا جاتا ہے اس لیے دسویں تاریخ کے بعد ان تین دنوں کو ایامِ تشریق کہا جاتا ہے ۔  * تکبیراتِ تشریق سے کیا مراد ہے ؟*  ایَّامِ تشریق میں فرض نمازوں کے بعد تکبیریں کہی جاتی ہیں ، انہیں تکبیراتِ تشریق کہتے ہیں ۔  *تکبیرات تشریق کا ثبوت*   تکبیرات تشریق شیوخ صحابہ رضی اللہ عنھم سے مروی ہیں ... *قال العلامة الکاسانی: اتفق شیوخ الصحابة نحو عمر و علی و عبد الله بن مسعود و عائشة رضی الله عنهم علی البدایة بصلاۃ الفجر من یوم عرفة و به اخذ علماؤنا* *📖 بدائع الصنائع  : 1  /  458  ، فصل فی وجوب التکبیر ایام التشریق*  *قلت اما روایة ابن مسعود و علی ذکرہ محمد بن الحسن فی کتابه الاثار  : 42 ،  برقم  : 208 و الحاکم فی المستدرک  : 1  / 299  ، رقم : 300 ، و اما روایة عمر فاخرجه الحاکم فی المستدرک  : 1  /  299...