علماء وعوام کی تبلیغ کا فرق اور اس کے حدود
علماء وعوام کی تبلیغ کا فرق اور اس کے حدود (۱) علماء کے ذمہ تو تبلیغ اس شان سے ہے کہ وہ اپنے سارے اوقات میں یہی کام کریں۔ اور دوسرے آدمی جستہ جستہ ( وقتاً فوقتاً) اوقات میں یہ کام کیا کریں۔ (۲) تفصیل اس کی یہ ہے کہ خطاب کی دو قسمیں ہیں: ایک خطاب عام دوسرے خطاب خاص ۔ دوسری تقسیم یہ ہے کہ ایک خطاب بالمنصوص ہے ایک خطاب بالاجتہاد ۔ پس خطاب عام بصورت وعظ تو علماء کا کام ہے . مگر انفردای خطاب میں علماء کی تخصیص نہیں انفرادی طور پر ہر مسلمان ایک دوسرے کو نصیحت کر سکتا ہے۔ (۳) اسی طرح خطاب بالمنصوص علماء کے ساتھ خاص نہیں ( یعنی جو مسائل و احکام شریعت میں صاف صاف مذکور ہیں ان کی تبلیغ علماء کے ساتھ خاص نہیں ہر شخص کو کرنا چاہئے، ہر شخص بآواز بلند کہہ سکتا ہے کہ ایمان لانا فرض ہے۔ نماز ، روزہ ، اورزکوۃ فرض ہے) اور امور اجتہادیہ (فقہ کے باریک مسائل ) سے خطاب کرنا علماء کے ساتھ خاص ہے۔ عوام اس میں غلطی کریں گے۔ عالم کو اول تو جزئیات بہت یاد ہوں گے وہ اس میں غلطی نہ کرے گا۔ اور اگر جزئیات نہ بھی یاد ہوئے تو علم کی شان کے اعتبار سے اس کو “لا ادری“ ( مجھے معلوم نہیں ) کہنے میں عار نہ...