اشاعتیں

جولائی, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

علماء وعوام کی تبلیغ کا فرق اور اس کے حدود

 علماء وعوام کی تبلیغ کا فرق اور اس کے حدود (۱) علماء کے ذمہ تو تبلیغ اس شان سے ہے کہ وہ اپنے سارے اوقات میں یہی کام کریں۔ اور دوسرے آدمی جستہ جستہ ( وقتاً فوقتاً) اوقات میں یہ کام کیا کریں۔ (۲) تفصیل اس کی یہ ہے کہ خطاب کی دو قسمیں ہیں: ایک خطاب عام دوسرے خطاب خاص ۔ دوسری تقسیم یہ ہے کہ ایک خطاب بالمنصوص ہے ایک خطاب بالاجتہاد ۔ پس خطاب عام بصورت وعظ تو علماء کا کام ہے . مگر انفردای خطاب میں علماء کی تخصیص نہیں انفرادی طور پر ہر مسلمان ایک دوسرے کو نصیحت کر سکتا ہے۔  (۳) اسی طرح خطاب بالمنصوص علماء کے ساتھ خاص نہیں ( یعنی جو مسائل و احکام شریعت میں صاف صاف مذکور ہیں ان کی تبلیغ علماء کے ساتھ خاص نہیں ہر شخص کو کرنا چاہئے، ہر شخص بآواز بلند کہہ سکتا ہے کہ ایمان لانا فرض ہے۔ نماز ، روزہ ، اورزکوۃ فرض ہے) اور امور اجتہادیہ (فقہ کے باریک مسائل ) سے خطاب کرنا علماء کے ساتھ خاص ہے۔ عوام اس میں غلطی کریں گے۔ عالم کو اول تو جزئیات بہت یاد ہوں گے وہ اس میں غلطی نہ کرے گا۔ اور اگر جزئیات نہ بھی یاد ہوئے تو علم کی شان کے اعتبار سے اس کو  “لا ادری“ ( مجھے معلوم نہیں ) کہنے میں عار نہ...

نکاح کے تعلق سے حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کے اقوال*

 *بر وقت نکاح کے تعلق سے حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کے اقوال*                     *نکاح* اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہو رہے ہیں اور 25 - 30 سال تک نکاح نہیں ہو رہا ہے تو یہ جنسی مریض بھی بنیں گے اور گناہ بھی کریں گے۔                    *نکاح*  وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے ، اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے۔                   *نکاح* ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں اور یہ ایک فطری ضرورت ہے لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں۔                   *نکاح* بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے ، اور جب جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ / بچی گناہ اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔                   *نکاح* بدقسمتی کی انتہا ، اسکول ، یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح...

اللہ نے انسان کو بہترین تخلیق کیا ہے۔

تصویر
 ﷲ نے انسان کو بہترین تخلیق کیا ہے۔  آج کی سائنسی تحقیق کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر سانس کی نالی (Larynx) زیادہ پھیل جاۓ تو انسانی آواز غائب ہو جاۓ گی، اور اگر یہ پہلے سے کچھ زیادہ تنگ ہو جاۓ۔  سانس لینے میں دشواری ہو گی اور آواز غائب ہو جائے گی، اور سانس لینا مشکل ہے۔  اللہ تعالیٰ نے فرمایا {صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ}  اور اگر بینائی حد سے بڑھ جاتی تو ہماری زندگی جہنم بن جاتی۔  اگر آپ پانی کے اس گلاس کو دیکھیں جو آپ ابھی پی رہے ہیں، آپ کو صاف، میٹھا، چمکتا ہوا، صاف نظر آئے گا، اگر نظر کی طاقت تھوڑی بڑھ جائے تو اس پیالے میں حیرت کا عالم دیکھا ہوگا، آپ جاندار اور بے ضرر جراثیم دیکھیں گے، پھر آپ وہ پانی نہیں پیو گے۔  اور اگر قوت سماعت تھوڑی سی بھی بڑھ جاتی تو رات کو نیند نہ آتی کیونکہ تمام آوازیں اس سے جذب ہوتی ہیں۔  درحقیقت، آپ کے معدے میں نظام ہاضمہ کی آوازیں تقریباً ایک بڑی تجربہ گاہ کی طرح ہیں۔  اور اگر لمس کا احساس بڑھ جائے تو آپ کو جامد بجلی محسوس ہوگی جو آپ کی زندگی کو ناقابل برداشت جہنم میں بدل سکتی ہے۔ ...