اشاعتیں

اکتوبر, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نبی اکرم ﷺ بحیثیت تاجر Part 3

 نبی اکرم ﷺ بحیثیت تاجر نبی اکرم تجارتی اسفار میں اپنے اخلاقِ کریمانہ اورصدق ودیانت کی وجہ سے اتنے زیادہ مشہور ہو چکے تھے کہ خلقِ خدا میں ’’صادق وامین ‘‘ کے لقب سے مشہور ہو گئے ( قسط - سوم)  ملکِ شام کی طرف پہلا سفر :       نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف 2 سفر کیے۔ پہلا سفر اپنے چچا کے ہمراہ،لیکن اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطورِ تاجر شریک نہ تھے بلکہ محض تجارتی تجربات حاصل کرنے کے لیے آپ کے چچا نے آپ کو ساتھ لیا تھا۔ اسی سفر میں بحیرا راہب والا مشہور قصہ پیش آیاجس کے کہنے پر آپ کے چچا نے آپ کو حفاظت کی خاطر مکہ واپس بھیج دیا ملکِ شام کی طرف دوسرا سفر:     اور دوسرا سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تاجر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامان لے کر اجرت پر کیا۔قصہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم 25برس کے ہوگئے تو آپ کے چچا ابو طالب نے کہا کہ اے بھتیجے! میں ایسا شخص ہوں کہ میرے پاس مال نہیں ، زمانہ کی سختیاں ہم پر بڑھتی جا رہی ہیں، تمہاری قوم کا شام کی طرف سفر کرنے کا وقت قریب ہے۔ خدیجہ بنت خویلد اپنا تجارتی سامان د...

نبی اکرم ﷺ بحیثیت تاجر Part 2

 نبی اکرم ﷺ بحیثیت تاجر نبی اکرم تجارتی اسفار میں اپنے اخلاقِ کریمانہ اورصدق ودیانت کی وجہ سے اتنے زیادہ مشہور ہو چکے تھے کہ خلقِ خدا میں ’’صادق وامین ‘‘ کے لقب سے مشہور ہو گئے ( قسط ۔ ۲)  نبوت سے قبل کی معاشی کیفیت :     نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوت سے پہلے والا دور مالی اور معاشی اعتبار سے کوئی خوش الحال دور نہیں تھا لیکن اس کے برعکس یہ کہنا بھی درست نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی زیادہ مفلوک الحال زندگی بسرکر رہے تھے البتہ یہ ضرور تھا کہ آنجناب بچپن سے ہی محنت ومشقت کر کے اپنی مدد آپ ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کا ذہن رکھتے تھے۔     والد کی طرف سے ملنے والی میراث :      جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرسے والد کا سایہ اٹھ چکا تھا۔ ان کی طرف سے بطورِ میراث بھی کوئی جائیداد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منتقل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ کتب ِ سیرت میں اس کی تفصیل میں صرف یہ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میراث میں صرف 5 اونٹ، چند بکریاں اور ایک باندی ملی، جس کا نام ’’ام ایمن‘‘ تھا (اس ب...

نبی اکرم ﷺ بحیثیت تاجر Part 1

 نبی اکرم ﷺ بحیثیت تاجر نبی اکرم تجارتی اسفار میں اپنے اخلاقِ کریمانہ اورصدق ودیانت کی وجہ سے اتنے زیادہ مشہور ہو چکے تھے کہ خلقِ خدا میں ’’صادق وامین ‘‘ کے لقب سے مشہور ہو گئے کائنات میں بسنے والے ہر ہر فرد کی کامل رہبری کیلئے اللہ رب العزت کی طرف سے رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، سب سے آخر میں بھیج کر قیامت تک کے لیے آنجناب کے سر پر تمام جہانوں کی سرداری ونبوت کا تاج رکھ کر اعلان کر دیا گیاکہ: اے دنیا بھر میں بسنے والے انسانو! اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر اور پْرسکون بنانا چاہتے ہو تو تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہستی میں بہترین نمونہ موجود ہے(الاحزاب21)۔      رسول اکرم ﷺ سے رہنمائی حاصل کرو اور دنیا وآخرت کی ابدی خوشیوں اور نعمتوں کو اپنا مقدر بناؤ۔ گویا کہ اس اعلان میں دنیا میں بسنے والے ہر ہر انسان کو دعوت ِعام دی گئی ہے کہ جہاں ہو، جس شعبے میں ہو، جس قسم کی رہنمائی چاہتے ہو، جس وقت چاہتے ہو، تمہیں مایوسی نہ ہو گی، تمہیں تمہاری مطلوبہ چیز سے متعلق مکمل رہنمائی ملے گی، شرط یہ ہے کہ تم میں طلبِ صادق ہو، چنا...