چہرہ انور کی تجلیات و شعاؤوں سے اندھیرے میں گم شدہ سوئ کا نظر آنا

 🌹 باسمہ تعالی شانہ 🌹

            السلام علیکم ورحمت اللہ   وبرکاتہ۔۔۔۔۔۔۔


        🌎 *مدنی دارالافتاء تقویم* 🌎


         🗓   *آج کی تاریخ*  🗓


🌙   16 .... *جمادی الآخر*  1443  ھجری 


💥... 21 ....  *جنوری*  2022۔۔۔۔


🌹 ۔۔۔ بروز ۔۔۔۔  *جمعرات*  ۔۔۔۔ 🌹


📚  آج کا درس ..... *نمبر 1 )

                 

         *چہرہ انور کی تجلیات و شعاؤوں سے اندھیرے میں گم شدہ سوئ کا نظر آنا* 


        *روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حفصہ بنت رواحہ سے عاریۃ سوئ لی تاکہ سرکار کے کپڑے مبارک سیوے اتنے میں وہ سوئ ہاتھ سے گر جاتی ہے اور اندھیرے میں گم ہوجاتی ہے ملتی نہیں اسی دوران سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وَسلم تشریف لاتے ہیں تو آپ کے چہرہ انور کی تجلیات و انوارات اور شعاؤوں سے وہ گم شدہ سوئ چمکنے لگتی ہے نظر آجاتی ہے اور گھر کا سارا اندھیرا ختم ہوجاتا ہے یہ ماجرا دیکھر کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مسکرانے لگتی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وَسلم دریافت کرتے ہیں اے حمیرا کیوں مسکرا رہی ہو؟ وہ پورا ماجرا بیان کرتی ہیں یہ سنکر آپ بلند آواز سے تین مرتبہ فرماتے ہیں کہ ہلاکت ہو اس شخص کیلئے جو میرے دیدار سے محروم رہا اور کوئی بھی بندہ خدا چاہے مسلمان یا غیر ایسا نہیں جو میرے دیدار کی تمنا نہ رکھتا ہو*


  *تحقیق* .....  علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو الآثار المرفوعۃ 1 / 46 پر غیر معتبر قرار دیا ہے لیکن انہوں نے اس کی کوئی وجہ نہیں لکھی. اس  روایت کو  "تاریخ دمشق لابن عساکر 1 / 143 پر صاحب کتاب نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے اسکی سند میں" ابو سعید مسعدہ بن بکر الفرغانی " نامی راوی ہے جسکے بارے میں *امام ذھبی. علامہ ابن حجر عسقلانی. امام دار قطنی. علامہ ابن عراق علیہم الرحمہ* نے کہا کہ *یہ راوی متہم بالکذب ہے*

امام ذہبی فرماتے ہیں *کہ یہ بڑا جھوٹا راوی یے منگھڑت روایات بنانے میں بڑا ماہر یے* علامہ ابن حجر نے بھی اس بات کی تائید و تصدیق کی ہے اور اسکی اور بھی روایات کو باطل قرار دیا ہے *لہذا یہ روایت درست نہیں اسکو بیان کرنا اور آپ علیہ السلام کی جانب اسکی نسبت کرنا درست نہیں* ( تنبیہات سلسلہ نمبر  113) 


      *واللہ تعالیٰ اعلم بحقیقۃ الحال*


    *حکم*  ......  *منگھڑت ہے*


( عمدۃ الاقاویل فی تحقیق الاباطیل 2 / 70 ) 


  ۔۔۔۔۔۔۔ ✍🏿 *منجانب* ✍🏿 ........


         *مجلس شوری لمدنی دارالافتاء*

    

         سرپرست اعلی مفتی  اسجد صاحب قاسمی 

=====ماخوذ  از مدنی دارالافتاء ======

 محمد جمیل اشاعتی اورنگ آباد مہاراشٹرا   ۔ =

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سبق جلدی کیسے یاد کریں؟