👀 الأقارب عقارب  👀


 یہ عربی ضرب المثل ہے جس کا مطلب ہے کہ: 


رشتے دار دکھ تکلیف دینے کے معاملے میں بالکل بچھو کی مانند ہوتے ہیں۔ 


اس ضرب المثل میں ایک تنبیہہ موجود ہے کہ معاملات میں رشتے داروں سے ایسے ہی بچیئے جیسے آپ بچھو کے ڈنک مارنے سے بچتے ہیں۔


عباسی خلیفہ - عالم، شاعر اور ادیب عبدالله بن المُعتَزّ کہتا ہے:


لحومهم لحمي وهم يأكلونه

وما داهيات المرء إلا أقاربه


مطلب: ان کا گوشت بھی میرا گوشت ہی تھا اور یہ مجھے کھانے لگے۔ زندگی کے جتنے تلخ قصے ہیں یہ سب رشتے داروں کی وجہ سے بنتے ہیں۔ 


 مشہور عرب فلاسفر أبو يوسف يعقوب ابن اسحق الصباح الكنْدي کہتا ہے: 


أقاربك العقارب في أذاها

فلا تركن إلى عّم وخال

فكم عّم أتاك الغم منه

وكم خالٍ من الخيرات خال


مطلب: اذیتیں دینے میں تیرے رشتے دار بچھو کی طرح ہوتے ہیں۔ 

یہ نہ چچا کو چھوڑتے ہیں اور نہ ماموں کو دیکھتے ہیں۔ 

کتنے ایسے چاچے ہیں جن سے بس غم ہی ملتے ہیں۔ 

اور کتنے ایسے مامے ہیں جو خیر و برکت سے خالی ہوتے ہیں

👍👍👍👍👍👍👍👍

کاپی پیسٹ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سبق جلدی کیسے یاد کریں؟

چہرہ انور کی تجلیات و شعاؤوں سے اندھیرے میں گم شدہ سوئ کا نظر آنا