عقل کی نعمت۔عقل کیا ہے/aQal ki memat

 انسان کو عقل کی نعمت عطاکی گئی ہے جوچیزیں جانوروں سے انسان کوعلاحدہ کرتی ہیں ان میں سے ایک عقل بھی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ عقل ایک بڑی نعمت ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ آفات بھی ہیں۔ شہوات، رغبات، جذبات اور تعصبات اسے اندھا اور مغلوب کر دیتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ اس کی بھی اصلاح ہو۔

عقلی وجود کے تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ عقل کے سامنے اپنے وجود کے بارے میں ، دنیا کے بارے میں اور کائنات کے بارے میں بنیادی سوالات کے تشفی بخش جواب مل جائیں۔وہ یہ جان لے کہ وہ کہاں سے آیاہے، اس کا مقصد وجود کیاہے؟ اس کی منزل کیاہے؟ اور کائنات کا مقصد تخلیق کیاہے؟

ان سارے سوالات کی شاہ کلید پروردگار عالم کی معرفت اور اس کی صفات کا صحیح شعورہے جب عقل اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت پالیتی ہے تو عقل کے اندھیرے دور ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ راہ مل جاتی ہے جس پرچل کر عقل تزکئے کی منازل طے کرلیتی ہے۔ عقل کی رہنمائی قرآن مجید سے حاصل ہوتی ہے۔ قرآن نے ہمیں غوروفکر اور تدبر وتفکر کی دعوت دی ہے۔ سورۂ نحل میں ارشاد ہوتاہے:

’’تو کیا! وہ جو پیدا کرتا ہے ان کے مانندہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے؟  توکیا تم سوچتے نہیں‘‘

’’یعنی خالق اور مخلوق یکساں کیسے ہوجائیں گے۔ یہ عقل کی کیسی موت ہے کہ اتنی موٹی سی بات بھی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔‘‘

سورۂ نحل کی آیات ۱۰؍تا۱۳؍کا مطالعہ کیجئے۔

گیارہویں آیت میں ’’ بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سوچیں ‘‘  (لقوم یتفکرون)

بارہویں آیت میں’’ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھیں‘‘  (لقوم  یعقلون)

تیرہویں آیت میں ’’ بیشک اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو یاددہانی حاصل کریں‘‘  (لقوم یذکرون)

اسی سورہ کی آیات ۶۵، ۶۷، اور ۶۹ میں بالترتیب  یسمعون، یعقلون اور یتفکرون  کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں عقل کے تزکیہ کی بڑی اہمیت ہے اور قرآن کے ذریعہ اس کا تزکیہ بھی ہوتاہے انسان کے اندر نمایاں خصوصیت اس کا اخلاقی وجود ہے انسان کواللہ نے بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیداکیاہے اس کے اندر مختلف قسم کے جذبات ومحرکات ودیعت کردیئے ہیں اس سلسلہ میں سب سے زیادہ کارگر اور قیمتی ہتھیار جس سے اخلاقی وجود کا تزکیہ ممکن ہوسکے وہ محمد رسول اللہﷺ کا اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ ﷺ کی حیثیت ہمارے لیے واجب الاطاعت شارع اور ہادی کی ہے۔

ہر انسان کے دوپہلو ہوتے ہیں، ایک کا تعلق اس کی اپنی ذات سے ہوتا ہے، دوسرے کا تعلق اپنے ماسوا دوسروں سے ہوتا ہے۔ یعنی وہ اپنے خاندان ، محلہ، معاشرہ اور ریاست سے متعلق ہوتا ہے۔ خاندان سماج اور ریاست کے حوالہ سے دین نے جو بنیادی ہدایات دی ہیں، وہ ہمارے اخلاقی وجود کے تزکیہ کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

نفس کے روحانی وجود کے تزکیہ کی اہمیت دوسرے تمام پہلوؤں سے زیادہ ہے۔ بلکہ سچ تویہ ہے کہ ہمارا روحانی وجود ہی ہماری شخصیت کا اصل وجود ہے۔ اس کا تزکیہ انسان اپنے رب سے صحیح بنیاد پر تعلق استوار کرکے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اور بندے کا تعلق عبد اور معبود کا تعلق ہے۔ اللہ کے ذکر، اس کی بندگی، وفاداری ، محبت اور تقوی کے ذریعہ ہماری روح پاکیزہ ہوتی ہے۔ دین میں عبادات کا نظام روحانی پاکیزگی کے مقصد کوپورا کرتا ہے۔ اسی حقیقت کا اظہار مولانا حمید الدین فراہی نے ان لفظوں میں کیاہے۔

’’نماز سانس کی طرح زندگی کے لیے ناگزیر ہے وہ حقیقی زندگی جو نور، سکینت اور ایمان کے الفاظ سے تعبیر کی گئی ہے، صرف اللہ کی یاد ہی سے باقی رہ سکتی ہے۔ غور کرو توعقلاً یہ بات بالکل واضح معلوم ہوتی ہے کیونکہ بندوں کو عقل وتمیزکی صلاحیت بخش دینے کے بعد، خداکی نظرکرم ان کی طرف اس وقت تک ملتفت نہیں ہونی چاہیے جب تک وہ اپنی توبہ وانابت سے اس کو دعوت نہ دیں۔ اس کا دستور یہ ہے کہ جب بندہ شکر کرتا ہے۔ اور پائی ہوئی نعمتوں کو کام میں لاتا ہے تو وہ نعمت کو زیادہ کرتا ہے چنانچہ فرمایا:  والذین اہتدوا زادہم ہدیً  (محمد:۱۷) جو طلب ہدایت میں سرگرم رہتے ہیں ، ان کے نور ہدایت کو بڑھاتا ہے توجہ الی اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے نام کی یاد کی جائے۔ خداسے قرب حاصل کرنے کی راہ یہی ہے۔ اللہ سے قربت کا مفہوم صرف یہ ہے کہ اس کو یاد رکھا جائے اور اس سے دوری کا مطلب یہ ہے کہ اس کی یاد سے غفلت ہوجائے (اعاذناللہ منہا) جب بندہ اللہ کویاد کرتاہے تواس سے قریب ہوجاتاہے جیساکہ فرمایا ہے:

واسجد واقترب۔ (علق :۱۹) سجدہ کرو اور قریب ہوجاؤ اس وقت اللہ کی نظر رحمت اس کو نوازتی ہے۔ اس کا سینہ انوار وتجلیات الٰہی سے جگمگا اٹھتا ہے اور اس کی روح ذکر وفکر کی گہرائیوں میں جس قدر اترتی جاتی ہے، زندگی اور قوت کے لازوال خزانوں سے اسی قدر قریب ترہوتی جاتی ہے انسان کی تربیت کاکام نہایت عظیم اور بلند ہے جس کا اہتمام اللہ کی طرف سے اس کے نبیوں اور اس کی کتابوں کے ذریعہ انجام پایا۔ اس کی اس اہمیت کا صحیح شعور پیدا کرکے تربیت کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

  اس کی پہلی: بنیاد اصلاح اور تبدیلی کا سچا ارادہ

اور عزم ہے۔ ہم جیسا بھی بنناچاہیں ، وہ اپنی کوشش اور اپنے عمل سے بنیں گے۔ دوسری: بنیاد وقت کی قدروقیمت ہے ۔ وقت تیزی سے گزررہا ہے۔ لہٰذا اس سے غفلت اور لاپرواہی ہماری بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ تیسری: بنیاد اچھی صحبت ہے، اچھے ساتھیوں سے انسان کی قوت وہمت اور حوصلہ میں اضافہ ہوتاہے۔ اچھی صحبت صالح لٹریچر کے مطالعہ اور صالحین کے تذکروں سے بھی حاصل ہوتی ہے۔

 چوتھی: بنیاد اللہ تعالیٰ سے دعاء اور اس سے استعانت ہے۔ جو لوگ اس راستہ پر چل کھڑے ہوتے ہیں ان کی راہ میں بڑی رکاوٹیں اور آزمائش آتی ہیں۔ ان میں وہی کامیاب ہوتے ہیں جنہیں اللہ کی مدد اور نصرت حاصل ہو۔


=====   از ماخوذ  =====


🎁 سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

محمد جمیل اشاعتی اورنگ آباد

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سبق جلدی کیسے یاد کریں؟

چہرہ انور کی تجلیات و شعاؤوں سے اندھیرے میں گم شدہ سوئ کا نظر آنا