علم وعلماء کی عظمت/ulmaa ki azmat

بسم الله الرحمن الرحيم


اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔


    {کتاب : علم اور علماء کرام کی عظمت}

      {کل 56 قسطیں ہیں قسط نمبر: 22}


واعظ : شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ 

🗒🖋نوٹ : آج جو مسلمان پریشان حال نظر آرہے ہیں اس کی ایک ہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ امت مسلمہ اپنے علماء کرام سے دور ہے !


       {ہر مسلمان پر دعوت الی اللہ فرض نہیں}


⭐️تبلیغی جماعت جو یہ کہتی ہے کہ یہ کام نبیوں والا ہے تو بے شک لوگوں تک دین پہنچانا نبیوں والا کام ہے لیکن یہ کام ہر ایک پر فرضِ عین نہیں ہے وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ 19؎ میں مِنْ تبعیضیہ ہے، تمام جمہور کا اجماع ہے کہ جو دعوت الی اللہ کی صلاحیت رکھتے ہوں وہی بیان کریں یہ نہیں کہ جو چاہے منبر پر کھڑا ہو کر اوٹ پٹانگ مسئلے بیان کرے، اسی لیے مولانا الیاس صاحبؒ نے تبلیغ والوں کو چھ نمبر میں محدود کیا تھا لیکن اب بعض نیا رنگ روٹ جوش میں آکر چھ نمبر کو بھی توڑ دیتا ہے اور جو سامنے بیٹھا ہوتا ہے لاپروائی سے اسے لات بھی مارتا ہے چاہے وہ کتنا ہی بڑا عالم ہو اور معافی بھی نہیں مانگتا، بس جوش میں کبھی آگے بڑھتا ہے اور کبھی پیچھے ہٹتا ہے پاگل کی طرح تقریر کرتا ہے یہ لات میں بھی کھا چکا ہوں اس لیے بیان کر رہا ہوں ایک شخص واحد کالونی ناظم آباد میں بیان کے لیے کھڑا تھا میں محض اس لیے اس کے بیان میں بیٹھ گیا کہ بھئی دعوت کے کام سے جوڑ رہے اب جناب وہ آگے بڑھتا ہے تو مجھے ایک لات مارتا ہے پھر پیچھے ہٹتا ہے پھر آگے بڑھتا ہے اور ایک لات مارتا ہے جوش میں بس تقریر کیے جا رہا ہے اسی لیے نفس کو مٹانے اور مہذب کرنے کے لیے ایک زمانہ چاہیے !

 

⭐️

تو جو چیز میں بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس عقیدے کی اصلاح فرض ہے کہ نبیوں والا کام صرف تبلیغی جماعت کر رہی ہے حالانکہ خانقاہوں میں تزکیۂ نفس کا، مکاتبِ قرآن میں قرآن کے الفاظ کی حفاظت کا اور دارالعلوم و مدارس دینیہ میں قرآن و حدیث کی تفسیر و شرح کا جو کام ہورہا ہے یہ بھی نبیوں والا کام ہے، اس لیے علماء کو اس بنا پر حقیر سمجھنا کہ یہ بستر اٹھا کر چلے پر نہیں جاتے بالکل حرام ہے جب ایک ادنیٰ مسلمان کو حقیر سمجھنے سے جنت میں داخلہ نہیں ملے گا تو علماء کو حقیر سمجھنا کیسے جائز ہوگا؟ 


⭐️حدیث شریف میں ہے لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ

ترجمہ : جس کے دل میں رائی کے برابر بڑائی ہوگی وہ جنت میں نہیں جائے گا !


⭐️اور حدیث شریف میں کبر کے دو جز بتائے گئے ہیں


 بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ 20؎

نمبر1) حق کو قبول نہ کرنا !

نمبر2) انسانوں کو حقیر سمجھنا !


⭐️اَلنَّاسْ میں الف لام استغراق کا ہے یعنی کسی بھی انسان کو حقیر سمجھنا اس لیے مسئلہ یہ ہے کہ کسی کافر کو بھی حقیر سمجھنا جائز نہیں ہے اس کے کفر سے تو نفرت ہو لیکن اس کی ذات کو حقیر سمجھنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ بہرحال اس کے مسلمان ہونے کا امکان موجود ہے ؎


ہیچ کافر را بخواری منگرید

کہ مسلماں بودنش باشد امید


⭐️مولانا رومی فرماتے ہیں کہ کسی کافر کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو کیوں کہ اس کے مسلمان ہونے کا امکان ہے یا نہیں؟ ہوسکتا ہے کہ اسے مرتے وقت کلمہ نصیب ہوجائے اور آپ کے پاس کیا ضمانت ہے کہ آپ کو کلمہ نصیب ہوگا؟


⭐️حوالہ جات :

19؎ اٰل عمرٰن : 104

20؎ صحیح مسلم:65/1، باب تحریم الکبروبیانہ،ایج ایم سعید

#علم_اور_علماء_کرام_کی_عظمت

===>جاری ہیں

ازماخوذ   ===۔ ===

🍁احناف اسلامک سروس

🍁

  

احناف ٹیلی گرام چینل 

محمد جمیل اشاعتی اورنگ آباد

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سبق جلدی کیسے یاد کریں؟

چہرہ انور کی تجلیات و شعاؤوں سے اندھیرے میں گم شدہ سوئ کا نظر آنا