علم اور علماء کرام کی عظمت
بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔
{کتاب : علم اور علماء کرام کی عظمت}
واعظ : شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ (خانقاہ امدادیہ اشرفیہ ، گلشن اقبال کراچی)
🗒🖋نوٹ : آج جو مسلمان پریشان حال نظر آرہے ہیں اس کی ایک ہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ امت مسلمہ اپنے علماء کرام سے دور ہے !
{حضرت یوسف علیہ السلام کی دعائے حسن خاتمہ}
⭐️اللہ والے کیوں ساری زندگی حسن خاتمہ کے لیے روتے ہیں اور سوء خاتمہ سے پناہ مانگتے ہیں؟ کیوں حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا کی تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ 21؎
ترجمہ : اے اﷲ ! مجھے حالت اسلام میں وفات دیجیے !
⭐️کیا یہ ممکن ہے کہ کسی نبی کا خاتمہ کفر پر ہو جائے؟ یہ ممکن نہیں ہے ممتنع ہے محال ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نبی اسی کو بناتا ہے جو ساری زندگی باوفا رہے اور اسی وفاداری میں اس کی روح قبض ہو، ورنہ اللہ کے علم اور انتخاب پر اعتراض لازم آئے گا کہ ایسے شخص کو نبی بنادیا جس کا خاتمہ خراب ہوگیا ! نعوذباللہ
⭐️حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے یہ دعا تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ یعنی اسلام پر وفات اور صالحین کے ساتھ الحاق کیوں مانگا؟
⭐️حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ بیان القرآن کے حاشیہ مسائل السلوک میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے خوف کو بیان فرمایا ہے فِیْہِ خَوْفُ الْاَنْبِیَاءِ مَعَ عِصْمَتِھِمْ وَامْتِنَاعِ الْکُفْرِ
عَلَیْھِمْ فَکَیْفَ یَصِحُّ لِغَیْرِھِمْ اَنْ یَّغْتَرَّ بِصَلَاحِہٖ
⭐️اس آیت سے انبیاء کے خوف کا پتا چلتا ہے باوجود اس کے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں اور ان پر کفر ممتنع و محال ہے کوئی نبی کافر نہیں ہوسکتا ان سے ایک لمحہ کے لیے بھی کفر کا صدور نہیں ہوسکتا لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں کہ اے خدا ! ایمان پر خاتمہ نصیب فرمایئے باوجود اس کے کہ ان کے لیے کفر محال ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ﷲ کے مقبول بندوں کی یہ شان ہوتی ہے ان میں اکڑفوں نہیں ہوتی اور وہ ﷲ سے ڈرتے رہتے ہیں !
⭐️معلوم ہوا کہ بے خوف ہونے والا خطرناک آدمی ہے غیر مقبول ہے مقبولین کے راستے سے سپر ہائی وے اور شاہراہ سے ہٹا ہوا ہے، تو جب انبیاء یہ دعا مانگ رہے ہیں تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ یعنی ہمیں اسلام پر موت دیجیے اور صالحین سے ملحق کر دیجیے فَکَیْفَ یَصِحُّ لِغَیْرِھِمْ اَنْ یَّغْتَرَّ بِصَلَاحِہٖ تو غیر نبی کے لیے یہ کیسے جائز ہوگا کہ وہ اپنی نیکیوں سے دھوکے میں پڑجائے کہ میں بھی کچھ ہوں؟ (21؎ یوسف: 101)
#علم_اور_علماء_کرام_کی_عظمت
===>جاری ہیں
=======ازماحوذ======
🍁احناف اسلامک سروس🍁
محمد جمیل اشاعتی اورنگ آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں