حقیقی مولوی اور عالم کی تعریف

 *"حقیقی مولوی اور عالم کی تعریف"*


    مولوی احکام داں کو کو کہتے ہیں، عربی داں کو نہیں کہتے ، عربی داں تو ابوجہل بھی تھا لیکن لقب تھا ابوجہل نہ کہ عالم

 (کلام الحسن :۵۵) 


    مولوی سے مراد عالم باعمل ہے ، اس کا نام چاہے آپ درویش رکھ لیجیئے ۔ 

جو ایسا نہیں ہمارے نزدیک وہ مولویوں میں داخل ہی نہیں ، ہم صرف عربی جاننے والے کو مولوی نہیں کہتے ۔ 

مصر ، بیروت میں عیسائی ، یہودی بھی عربی داں ہیں تو کیا ان کو ہم مقتداءِ دین کہنے لگیں؟ (تجدیدِ تعلیم وتبلیغ : ۳۴) 


     مولوی وہ ہے جو مولا والا ہو ، یعنی علمِ دین بھی رکھتاہو اور متقی بھی ہو! 

خوفِ خدا وغیرہ اخلاقِ حمیدہ بھی رکھتاہو ، صرف عربی جاننے سے آدمی مولوی نہیں ہوتا چاہے وہ کیساہی ادیب ہو ، عربی میں تقریر بھی کرلیتاہو تحریر بھی لکھ لیتاہو ، کیونکہ عربی داں تو ابوجہل بھی تھا ، بلکہ وہ آج کل کے ادیبوں سے زیادہ عربی داں تھا  ، تو اس کو بڑا محقق عالم ہوناچاہیئے حالانکہ اس کا نام ہی ابوجہل تھا ، معلوم ہوا کہ صرف عربی داں کا نام مولویت نہیں (التبلیغ : ۱/۱۳۳) 


(بحوالہ "العلم والعلماء" از حکیم الامت رحمہ اللہ تعالی: ۶۱،۶۲)


    دورانِ مطالعہ قیمتی ملفوظ نظر سے گذرا تو سوچا آپ حضرات کی خدمت میں پیش کردوں!

محمد جمیل اشاعتی اورنگ آباد

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سبق جلدی کیسے یاد کریں؟

چہرہ انور کی تجلیات و شعاؤوں سے اندھیرے میں گم شدہ سوئ کا نظر آنا