ہندوستانی مسلمانوں مسائل مشکلات چیلنجز اور اس کا علاج
*ہندوستانی مسلمانوں مسائل مشکلات چیلنجز اور اس کا علاج*
ہندوستان میں اس وقت مسلمانوں کا سب بڑے مسائل یہ ہیں
تعلیم و تربیت
روزگار
سیاسی انتشار
اخلاقی کمزوریاں
میڈیا کے ذریعہ اسلام بوفیا کا جواب ۔
مساجد کا مؤثر کردار زندہ کرنا ۔
*اسلام بوفیا کا جواب میڈیا کے ذریعہ دیا جائے*
اسلام کے بارے میں پروپیگنڈہ کی سیاست بہت زیادہ سرگرم ہے لہذا مسلمانوں کو اپنا مضبوط میڈیا سینٹر بنانا چاہیے جس میں اسلام کے خلاف ہورہے ہر پروپیگنڈے کا زوردار جواب دیا جائے ۔
*تعليمي گراف کو بلند کرنے کے لیے اسکیم*
️ہندوستان میں 30 کروڑ مسلمان ہیں، 10 دن میں ایک بار صرف 1 روپے عطیہ کریں، مہینے کے 90 کروڑ جمع ہوں گے، ایک ریاست میں 12 تک کی 30 اسکول بنیں گے، ایک سال میں پورے ہندوستان میں مسلم لڑکیوں کے لیے 360 اسکول بنائے جائیں گے۔
یہ کب ممکن ہے جب۔۔۔۔۔؟
مگر اس کے لیے اتحاد اور اعتماد کی ضرورت ہوگی جو بظاہر ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور معلوم ہورہا ہے البتہ اپنے حالات بدلنا ہو تو ہوسکتا ہے اور حالات بھی بدل سکتے ہیں اگر اخلاص اور اللہ کی مدد شامل حال رہی ۔
اگر اسکول ہمارے ہو جاتے ہیں تو تعلیم اور تربیت دونوں مسئلے بلکہ اخلاقی کمزوریاں کا بھی حل ممکن ہوسکتا ہے ۔
اسی کے ساتھ مختلف قسم ضروری کالجوں کا قیام بھی عمل میں آسکتا ہے ۔
ان اسکولوں و کالجوں میں ديني ودنیوی دونوں تعلیم کا مؤثر نظام بنایا جائے جس کا خاکہ بندہ کے ذہن میں ہے موقعہ ہوا تو ضرور سپرد قرطاس کروں گا ان شاء اللہ بلکہ بیس سالہ تجربات کی روشنی میں عملی طور پر اس کر کے بھی دکھا سکتا ہوں اللہ کے فضل اور توفیق سے ۔
*روزگار کا حل*
اس کے علاوہ اگر صرف ایک سال کی للہ رقوم کسی مرکزی مقام پر جمع ہو جائے تو حیرت انگیز طور پر کارخانے، کمپنیاں، اسپتال کھول کر خود مسلمان اپنی بے روزگاری ختم کر سکتے ہیں۔
لاٹھیاں کھانے اور کسی حکومت کے طعنے سننے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اگر سکول کالج ہسپتال کو بھی کاروبار کے طور پر کھولا جائے، جو ہوتا ہے، تو مالی فائدہ بے حساب ہو گا۔ آپ کے مسلمان استاد بھی کسی سے کم نہیں۔ مسلم ڈاکٹروں کی کمی نہیں ہے۔ مسلم انجینئروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ بہت سے مسلمان تاجر ہیں جو کاروباری حکمت عملی بنا سکتے ہیں۔ ہر قسم کی مہارت رکھنے والے کاریگر مسلمان ہیں۔
دو تین سال اسی طرح پلاننگ کے ساتھ کام کریں گے تو نہ آپ کی بیٹیوں کے نقاب اتریں گے اور نہ ہی بھکاریوں کی طرح نوکری مانگنے کی ضرورت پڑے گی۔
*سياسی انتشار کا حل*
سیاسی میدان میں بھی اگر اپنے ووٹوں کو مسلمان یکجا کرنے میں کامیاب ہوے تو آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرسکتے ہیں پارلمنٹ میں اپنی آواز اتھا سکتے ہیں ۔
*مساجد کے صحیح کردار کو بحال کرنے کی ضرورت ہے*
اصلاحی کمیٹیوں قائم کر کے ہر گاؤں اور محلہ کو سو فیصد نماز بنایا جائے مساجد سے اپنے اجتماعی مسائل حل کیے جائیں
*مسلمانوں اپنے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دو اللہ کے واسطے !*
لیکن یہ کام اور ایسی سوچ زندہ برادریوں کی ہوتی۔
زندہ قومیں معصوم زندگی پر قائم زندگی کو موقع دیتی ہیں۔
مسلمانوں! ابھی بھی دیر نہیں ہوئی پھر بھی ایک دوسرے کے لیے جینا اور مرنا سیکھو۔
مولانا عبیداللہ خان اعظمی سابق ممبرآف پارلیمنٹ کی وال سے کے حوالے سے بندہ نے ایک پوسٹ پڑھی اور اس میں کچھ اضافہ کیا ہے
حذیفہ وستانوی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں