علماء کے خون سے رنگین ہے داستان آزادی ہند
ناقل محمد جمیل
بسم اللہ الرحمن الرحیم
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ۔(الحجرات: ۱۳)
ترجمہ: اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور مختلف خاندان اور کنبے بنادیئے ہیں؛ تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو، یقیناً اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے، جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہو، یقیناً اللہ بہت جاننے والے اور بہت باخبر ہیں۔
تمہید
پندرہ اگست کو پورے ہندوستان میں یوم آزادی منائی جاتی ہے، ترنگا لہرایا جاتا ہے، خوشیاں منائی جاتی ہیں، مٹھائیاں اور چاکلیٹ تقسیم کیے جاتے ہیں،یہ دن اور اس کی خوشیاں جو اس ملک کو نصیب ہوئیں وہ اس وجہ سے کہ ہمارے اکابر اور اسلاف نے اس ملک کو آزاد کرانے کے لیے جانوں کی بازی لگائی، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جنگ آزادی کا مختصر تذکرہ کیا جائے، اور اس بات کا بھی تذکرہ کیا جائے کہ کیا ہمارا ملک واقعی ایک جمہوری اور آزاد ملک ہے؟ کیاہم ہمارے ملک میں آزادی سے سانسیں لے رہے ہیں؟ کیا سچ مچ ہمارے ملک کو اس وقت آزاد جمہوری ملک جس میں سب کے حقوق یکساں اور برابر حاصل ہوتے ہیں، کہے جانے کا حق ہے؟ کیا ہند کا ہندو، مسلم، سکھ عیسائی، آپس میں سب بھائی بھائی کے مصداق ساروں کو جینے، زندہ رہنے، ہر ایک کو اپنے مذہب اور عمل پر قائم ودائم رکھنے کا پورا پورا حق دیا جارہا ہے؟
آزادی کی اہمیت
انسان اصلاًً فطری طورپر آزاد ہے، اس کو آزادی کا فطری حق حاصل ہے، وہ اللہ کے سوا کسی کا بھی غلام نہیں ہے، اسلام چونکہ فطری دین ہے اس لیے وہ انسان کو اس کا فطری حق عطا کرتے ہوئے اس کو آزاد رہنے کی ترغیب دیتا ہے، سارے انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں، ہر انسان آزاد ہی پیدا ہوتا ہے، انسان کی فطرت میں آزادی ہے، جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھا کچھ ایسے لوگ آئے جنھوں نے انسانوں کو خریدنا اور بیچنا شروع کیا، غلامی کے بازار لگائے، زمانہ جاہلیت میں بھی یہ سلسہ چل رہا تھا، جب اسلام آیا تو آہستہ آہستہ اس سلسلے کو ختم کیا، انسانوں کو یہ خوشخبری سنائی گئی: وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ، نبی کریمﷺ اُن سے ان کا بوجھ اور طوق، جو اُن کے اوپر ہیں، اُتاردیں گے۔
نبی کریمﷺ نے غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دی اس کے فضائل بیان فرمائے، انسان سے کوئی ایسی غلطی ہوجائے جس پر کفارہ لازم ہوتا ہے، تو بہت سے کفاروں میں غلام باندی کے آزاد کرنے کو قرآن مجید نے بیان کیا، تاکہ یہ سلسلۂ غلامی ختم ہو، اور آہستہ آہستہ یہ سلسلہ ختم ہوگیا، اب کہیں اس پرانے انداز میں غلام باندی نہیں بنائے جاتے، لیکن غلامی کی دوسری بہت سی صورتیں اب بھی باقی ہیں۔
آزادی کے حوالے سے یہ بنیادی بات کبھی نظر انداز نہیں ہونی چاہئے کہ جب تک آزادی حاصل نہ ہو انسان کا حق رہتی ہے، حاصل ہو جائے تو یہ آزادی سب سے بڑی ذمہ داری بن جاتی ہے، آزادی انسان کی امتیازی صفت بھی ہے اور اس کی سب سے بڑی آزمائش بھی، آزادی محض ایک لفظ نہیں ہے زندگی کا ایک رویہ ہے غلامی میں طاقتور انسان کمزور پر پابندیاں لگاتا ہے۔
انسانی زندگی کے لئے جو اہمیت آکسیجن کی ہے وہی اہمیت معاشرتی زندگی کے لئے آزادی کی ہے، آکسیجن نہ ہو تو آدمی کا دم گھٹنے لگتا ہے آزادی نہ ہو تو پورے معاشرے کا دم گھٹنے لگتا ہے۔
اللہ رب العزت نے آزاد اور غلام کی مثال بیان فرمائی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَنْ رَزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا هَلْ يَسْتَوُونَ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔(النحل: ۷۵)
ترجمہ: اللہ مثال دیتے ہیں کہ ایک غلام ہے، جو دوسرے کی ملکیت میں ہے، وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اورایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے عمدہ روزی دی ہے، وہ اس میں سے چھپے اور کُھلے خرچ کرتا ہے، کیا یہ برابر ہوسکتے ہیں؟ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں؛ لیکن زیادہ تر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
یعنی غلام کی مثال مخلوق کی سی ہے، جس کے طاقت اوراختیار میں کچھ نہیں ہے، اور آزاد شخص کی مثال ایک درجہ میں خالق کی سی ہے، جو مال و دولت کا مالک ہے اور اس میں سے خرچ کرنے کا پورا اختیار رکھتا ہے، تو جب ایک آزاد اور غلام برابر نہیں ہوسکتے تو خالق اور مخلوق کیسے برابر ہوسکتے ہیں؟ پھر کسی انسان کے لئے یہ بات کیوں کر درست ہوسکتی ہے کہ وہ عبادت میں خالق کے ساتھ مخلوق کو شامل کرے؟ توحید کو سمجھانے کے لیے یہ مثال دی گئی ہے لیکن اس سے آزادی کی اہمیت بھی معلوم ہوتی ہے۔
ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ آزاد رہے اور اس کی آزادی کو کوئی چیلنج كرنے والا نہ ہو، اسی قدرتی جذبہ کا احترام کرتے ہوئے اسلام نے انسان کو مکمل طور پر آزادی دی ہے، آزادی کی اہمیت کا صحیح تجربہ وہی کر سکتا ہے جو آزاد فضا میں زندگی گزارنے کے بعد غلامی کی زنجیروں میں جكڑا گیا ہو، اسی ليے اسلام نے آزادی پر بہت زور دیا، انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانا اسلام کا بنیادی مقصد ہے۔
اللہ کو یہ بات ہرگز پسند نہیں کہ اس کی مخلوق کسی اور کی غلامی میں رہ کر زندگی گزارے، غلامی اصل میں اللہ رب العزت کی ہونی چاہیے، اللہ کی غلامی میں آ جانے کے بعد ایک انسان ہر طرح کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے، اسی لئے صحابه كرام جب کسی ملک میں جاتے تو لوگوں تك اللہ کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہتے تھے : ابتعثنا الله لنخرج الناس من عبادة العباد إلى عبادة الله،(البدایہ والنہایہ) ہمیں اللہ نے اس لیے بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو انسان کی پوجا سے نجات دلا کر اللہ کی عبادت کی طرف لائیں۔
حضرت عمرؓ کی جانب یہ قول منسوب ہے: متى استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا جب کہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا۔
اسی طرح آزادی کی اہمیت میں عربی کا یہ مقولہ بھی نقل کیا جاتا ہے: لا تكن عبد غيرك وقد جعلك الله حراً، اللہ نے تجھے آزاد پیدا کیا ہے اس لئے کسی اور کی غلامی قبول مت کر۔
آزادی میں مسلمانوں کا کردار
ہندوستان کوطویل جدوجہدکے بعدآزادی کی نعمت حاصل ہوئی، جس کے لیے ہمارے اسلاف نے زبردست قربانیوں کانذرانہ پیش کیا،جان و مال کی قربانیاں دیں، تحریکیں چلائیں تختہٴ دار پرچڑھے، پھانسی کے پھندے کو جرات وحوصلہ اورکمال بہادری کے ساتھ بخوشی گلے لگایا، قیدو بندکی صعوبتیں جھیلیں اور حصولِ آزادی کی خاطرمیدا ن جنگ میں نکل پڑے، آخر غیرملکی (انگریز) ملک سے نکل جانے پرمجبورہوئے۔
غیرملکی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کوقائم رکھنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چلیں، تدبیریں کیں، رشوتیں دیں، لالچ دیے، پھوٹ ڈالو اورحکومت کرو کا اصول بڑے پیمانے پر اختیار کیا،فرقہ وارانہ اختلافات پیداکیے، حقائق کوتوڑمروڑکرپیش کیا، آپس میں غلط فہمیاں پھیلائیں، تاریخ کومسخ کیا،انگریزوں نے ہندوستان کے معصوم باشندوں پرظلم وستم کے پہاڑ توڑے اورناحق لوگوں کوتختہٴ دارپرلٹکایا، ہندوستانیوں پرناحق گولیاں چلائیں، چلتی ریلوں پر سے اٹھاکرباہر پھینکا؛ مگر ان کے ظلم وستم کوروکنے اورطوقِ غلامی کوگردن سے نکالنے کے لیے بہادر مجاہدین آزادی نے ان کا مقابلہ کیااورملک کوآزادکرکے ہی اطمینان کاسانس لیا۔
ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کاحصہ قدرتی طورپربہت ممتازونمایاں رہا ہے،انھوں نے جنگ آزادی میں قائداوررہنماکاپارٹ اداکیا،اس کی وجہ یہ تھی کہ انگریزوں نے اقتدارمسلم حکمرانوں سے چھیناتھا،اقتدارسے محرومی کادکھ اور دردمسلمانوں کوہوا، انھیں حاکم سے محکوم بنناپڑا، اس کی تکلیف اوردکھ انھیں جھیلناپڑا، اسی لیے محکومیت وغلامی سے آزادی کی اصل لڑائی بھی انھیں کو لڑنی پڑی۔
انگریز کی ہندوستان آمد
واسکوڈی گاما کی قیادت میں پُرتگال کے ملاحوں نے سب سے پہلے سرزمین ہند کو اپنے ناپاک قدموں سے آلودہ کیا اور صوبہ بنگال کے شہر کلکتہ اور جنوبی ہند کے شہر کالی کٹ کو اپنی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، یہ لوگ تجارت کے مقصد سے آئے تھے مگر مذہب کی اشاعت میں بھی سر گرم ہوگئے، اس وقت ہندوستان سونے کی چڑیا کہلاتا تھا، اس ملک میں تجارت کے بے شمار مواقع تھے، مالی ترقی کے وسیع تر امکانات نے انگلستان کے تاجروں کو بھی ادھر متوجہ کیا، انہوں نے تیس ہزار پاؤنڈ سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی اور ۱۶۰۱ ء میں پہلی مرتبہ اس کمپنی کے تجارتی جہاز ہندوستان کے ساحلوں پر لنگر انداز ہوئے، ۱۶۱۲ء میں جہانگیر کے عہد حکومت میں ان انگریز تاجروں نے شہنشاہ کی اجازت سے گجرات کے شہر سورت میں اپنا اقتصادی مرکز بنالیا اور بہت جلد اس کی شاخیں احمد آباد، اجمیر، برہان پور اور آگرہ میں قائم کردیں، یہ شہر اس زمانے میں تجارت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے تھے، اور بڑے تجارتی مراکز میں شمار کئے جاتے تھے، اورنگ زیب عالمگیر کے عہد حکومت تک انگریزوں کی سر گرمیاں صرف تجارت تک محدود رہیں، اورنگ زیب کے انتقال کے بعد مغلیہ حکومت کا شیرازہ منتشر ہونے لگا یہاں تک کہ احمد شاہ کے دور حکومت (۱۷۴۸ء تا ۱۷۵۲ ء ) میں یہ ملک طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا، بہت سے صوبوں نے اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا، ایسٹ انڈیا کمپنی جو اب تک صرف ایک تجارتی کمپنی تھی ملک گیری کی ہوس میں مبتلا ہوگئی اور اس نے اپنی سیاسی قوت بڑھانی شروع کردی یہاں تک کہ اس نے کلکتے میں اپنا ایک مضبوط فوجی قلعہ بھی تیار کرلیا۔
جنگ آزادی کا آغاز
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ انگریزوں کے خلاف مسلّح جدو جہد کا آغاز ۱۸۵۷ء سے ہوا، یہ ایک غلط بات ہے جو جان بوجھ کر عام کیا گیا ہے تاکہ ۱۸۵۷ء سے سو برس پہلے جس تحریک کا آغاز ہوا اور جس کے نتیجے میں بنگال کے سراج الدولہ نے ۱۷۵۷ء میں، مجنوں شاہ نے ۱۷۷۶ء اور ۱۷۸۰ ءمیں، حیدر علی نے ۱۷۶۷ء میں،اس کے بیٹے سلطان ٹیپو نے ۱۷۹۱ ء میں، مولوی شریعت اللہ اور ان کے بیٹے دادومیاں نے ۱۸۱۲ء میں اور سید احمد شہیدؒ نے ۱۸۳۱ ء میں انگریزوں کے خلاف جو باقاعدہ جنگیں لڑیں وہ سب تاریخ کے غبار میں دب جائیں، اور اہل وطن یہ نہ جان سکیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں انگریزوں کے خلاف نفرت کی چنگاری اس دن سے سلگ رہی تھی جس دن انہوں نے اپنے ناپاک قدم اس سرزمین پر رکھے تھے اور تجارت کے نام پر سیاسی اور فوجی اثر ورسوخ حاصل کرکے یہاں کے حکمرانوں کو بے دست وپا کردیا تھا، سو سال تک مسلمان پوری طاقت اور قوت کے ساتھ اپنے علماء کی قیادت میں ان سے نبر د آزما رہے، یہاں تک کہ ۱۰ مئی ۱۸۵۷ء کو تحریک آزادی کی جدو جہد کا دوسرا دور شروع ہوا اور غیر مسلم اہل وطن نے بھی جد وجہد آزادی میں اپنی شرکت درج کرائی۔
سراج الدولہ
سراج الدولہ پہلا شخص ہے جس نے انگریز کے خطرے کو محسوس کیا اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کی کوشش کے طور پر پلاسی کے میدان میں ان سے جنگ کی، اگر سراج الدولہ کا وزیر میر جعفر غداری نہ کرتا تو انگریز دُم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہوجاتے، اس غدار وطن کی وجہ سے سراج الدولہ کو شکست ہوئی، انعام کے طور پر میر جعفر کو بنگال کا اقتدار ملا، لیکن اس کا اقتدار زیادہ دیر تک بر قرار نہ رہ سکا، کچھ دنوں بعد وہ معزول کردیاگیا، اس کا داماد میر قاسم برسرِاقتدار آیا، انگریزوں کی مخالفت کی وجہ سے وہ بھی دیر تک اقتدار پر قابض نہ رہ سکا یہاں تک کہ انگریز ۱۷۶۴ ء میں بہار اور بنگال پر قابض ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اودھ تک پھیل گئے۔
(علماء کے خون سے رنگین داستان آزادی، مولانا ندیم الواجدی)
جنگِ آزادی میں حیدرعلی اورٹیپوسلطان کاکردار
دکن فرمانروا حیدرعلی اوران کے صاحبزادہ ٹیپوسلطان کے ذکر کے بغیر جنگ آزادی کی تاریخ ادھوری ہوگی، جومستقل انگریزوں کے لیے چیلنج بنے رہے۔
مفکراسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمه الله لکھتے ہیں:
”سب سے پہلاشخص جس کو اس خطرہ کااحساس ہوا وہ میسور کا بلند ہمت اورغیور فرمانروا فتح علی خان ٹیپوسلطان (۱۳۱۳ ھ۱۷۹۹ ء)تھا، جس نے اپنی بالغ نظری اورغیرمعمولی ذہانت سے یہ بات محسوس کرلی کہ انگریز اسی طرح ایک ایک صوبہ اورایک ایک ریاست ہضم کرتے رہیں گے اور اگرکوئی منظم طاقت ان کے مقابلہ پرنہ آئی تو آخر کار پورا ملک ان کا لقمہ تربن جائے گا؛ چنانچہ انھوں نے انگریزوں سے جنگ کافیصلہ کیااوراپنے پورے سازوسامان، وسائل اور فوجی تیاریوں کے ساتھ ان کے مقابلہ میں آگئے“۔
حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے انگریزوں سے چار جنگیں کیں، ٹیپوسلطان ۱۷۸۲ء میں حکمراں ہوئے،۱۷۸۳ء میں انگریزوں سے ٹیپو کی پہلی جنگ ہوئی اور انگریزوں کوشکست ہوئی، یہ جنگ ۱۷۸۴ء میں ختم ہوئی، یہ میسور کی دوسری جنگ کہلاتی ہے، انگریز اپنی شکست کاانتقام لینے کے لیے بے چین تھے؛ چنانچہ ۱۷۹۲ء میں انگریزوں نے اپنی شکست کاانتقام لیتے ہوئے حملہ کیا؛ مگر اپنے بعض وزراء وافسران خصوصا میر صادق کی بے وفائی اور اپنی ہی فوج کی غداری اور اچانک حملہ کی وجہ سے ٹیپو معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئے۔
ٹیپوسلطان کی جد و جہد اور اولوالعزمی
ٹیپونے ہندوستان کے راجوں،مہاراجوں اور نوابوں کوانگریزوں سے جنگ پرآمادہ کرنے کی کوشش کی، اس مقصدسے انھوں نے سلطان ترکی سلیم عثمانی، دوسرے مسلمان بادشاہوں اور ہندوستان کے امراء اورنوابوں سے خط وکتابت کی اور زندگی بھر انگریزوں سے سخت معرکہ آرائی میں مشغول رہے، قریب تھا کہ انگریزوں کے سارے منصوبوں پر پانی پھرجائے اور وہ اس ملک سے بالکل بے دخل ہوجائیں؛ مگر انگریزوں نے جنوبی ہند کے امراء کو اپنے ساتھ ملالیا اور آخرکار اس مجاہد بادشاہ نے ۴ مئی ۱۷۹۹ ء کوسرنگا پٹنم کے معرکہ میں شہید ہوکر سرخروئی حاصل کی، انھوں نے انگریزوں کی غلامی اور اسیری اوران کے رحم وکرم پر زندہ رہنے پر موت کوترجیح دی، ان کامشہور تاریخی مقولہ ہے کہ ”گیڈرکی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی اچھی ہے“، جب جرنل HORSE کو سلطان کی شہادت کی خبر ملی تواس نے ان کی نعش پرکھڑے ہوکر یہ الفاظ کہے کہ:آج سے ہندوستان ہماراہے۔“(ہندوستانی مسلمان: ۱۳۷)
جنگ آزادی میں شاہ ولی الله اورانکے شاگردوں کاکردار
یہ وہ دور تھا جب انگریزوں کے علاوہ ایران وافغانستان سے تعلق رکھنے والے دوسرے حکمراں بھی ہندوستان کو اپنے زیر نگیں کرنے کے لیے حملہ آور ہوئے ۱۷۳۸ء میں نادر شاہ نے دہلی کو تباہ وبرباد کیا، اور ۱۷۵۷ ء میں احمد شاہ ابدالی نے دو ماہ تک مسلسل اس شہر کو یرغمال بنائے رکھا، دوسری طرف انگریز فوجیں مرہٹوں سے ٹکراتی ہوئیں، سراج الدولہ کو شکست دیتی ہوئیں اور سلطان ٹیپو کو جامِ شہادت پلاتی ہوئیں دہلی کی طرف بڑھ رہی تھیں، ابھی انگریزوں نے پور ی طرح دہلی کا اقتدار حاصل بھی نہیں کیا تھا کہ علماء ہند کے میر کارواں امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ (۱۷۰۳ء ۱۷۶۲ء ) نے مستقبل کے خطرات کا ادراک کرلیا، اور دہلی پر قبضے سے پچاس برس پہلے ہی اپنی جد وجہد کا آغاز کردیا، اس کی پاداش میں آپ پر جان لیوا حملے بھی کئے گئے لیکن آپ اپنے نظریے پر ڈٹے رہے، انہوں نے اپنی کتابوں میں، خطوط میں، تقریروں میں اپنا نظریہ اس طرح پیش کیا، ’’تباہ حال شہر جس پر درندہ صفت انسانوں کا تسلط ہو جن کو اپنی حفاظت ودفاع کی پوری طاقت حاصل ہو، یہ ظالم وجابر گروہ جو انسانیت کے لیے سرطان ہے، انسان اس وقت تک صحت مند نہیں ہوسکتا جب تک اس سرطان کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک نہ دیا جائے۔
(حجۃ اللہ البالغہ:الجہاد: ۱۱۵۷)
افسوس حضرت شاہ صاحبؒ ۱۷۶۵ء میں وفات پاگئے اور ان کا خواب تشنۂ تعبیر رہ گیا تاہم وہ اپنی کتابوں کے ذریعے اور اپنے فکر وعمل کے ذریعے ایک نصب العین متعین کرچکے تھے، انقلاب کا پورا لائحہ عمل تیار کرچکے تھے اور انقلاب کے بعد ممکنہ حکومت کے لیے مذہبی، اقتصادی، اور سیاسی اصولوں کی روشنی میں ایک مکمل نظام وضع کرچکے تھے، ضرورت صرف اس بات کی تھی کہ ان کے چھوڑے ہوئے کام کو آگے بڑھانے کے لیے کچھ لوگ میدانِ عمل میں آئیں، چناں چہ حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ نے حوصلہ دکھایا، حالاں کہ وہ اس وقت محض سترہ سال کے تھے مگر اپنے والد بزرگوار کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے انہوں نے عزم واستقلال سے کام لیااور حضرت شاہ صاحبؒ کے نظریۂ انقلاب کو مخصوص لوگوں کے دلوں سے نکال کر عام انسانوں کے دلوں میں اس طرح پیوست کردیا کہ ہر زبان پر جہاد اور انقلاب کے نعرے مچلنے لگے۔
انقلاب کی اس صدائے باز گشت کو دہلی سے باہر دور دور تک پہنچانے میں حضرت شاہ عبد العزیزؒ کے تینوں بھائیوں حضرت شاہ عبد القادرؒ ، حضرت شاہ رفیع الدینؒ اور حضرت شاہ عبد الغنی دہلوی ؒ کے علاوہ جن لوگوں نے پورے خلوص اور للہیت کے ساتھ اپنا بھر پور تعاون پیش کیا ان میں حضرت شاہ عبد الحئؒ ، حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ ، حضرت سید احمد شہیدؒ اور مفتی الٰہی بخش کاندھلویؒ کے اسمائے گرامی بہ طور خاص قابل ذکر ہیں، تربیت گاہ عزیزی سے نکل کر مسلح جد وجہد کو نصب العین بنانے والوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز تھی، اور ہندوستان کا کوئی گوشہ ایسا نہیں تھا جہاں اس انقلاب کی دستک نہ سنی گئی ہو اور جہاں اس آواز پر لبیک کہنے والے موجود نہ ہوں۔
حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ نے اس تحریک کو دل وجان سے پروان چڑھایا مگر طرح طرح کی مشکلات اورمصائب بھی برداشت کئے، آپ کی جائداد بھی ضبط کی گئی، آپ کو شہر بدر بھی کیا گیا، آپ پر قاتلانہ حملے بھی کئے گئے، دو مرتبہ زہر دیا گیا، اور ایک مرتبہ ابٹن میں چھپکلی ملا کر پورے بدن پر مالش بھی کی گئی، جس سے بینائی بھی جاتی رہی اور بے شمارا مراض بھی پیدا ہوئے، ان تمام مصائب کے باوجود ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش محسوس نہیں کی گئی۔
جنگ آزادی کا فتویٰ
۱۸۰۳ء میں لارڈ لیک نے شاہ عالم بادشاہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور دہلی پر قابض ہوگیا، اس قبضے کے لیے جوسہ نکاتی فارمولہ اپنایا گیا وہ یہ تھا ’’خلقت خدا کی، ملک باد شاہ سلامت کا اور حکم کمپنی بہادر کا‘‘ یہ فارمولہ اس لیے اختیار کیا گیا تاکہ بادشاہت کے خاتمے سے عوام میں بد دلی اور مایوسی پیدا نہ ہو اور وہ بغاوت پر آمادہ نہ ہوجائیں، اس لیے بادشاہ کے تخت وتاج کو توباقی رکھا گیا مگر اس کے تمام اختیارات سلب کرلئے گئے، قناعت پسند طبیعتوں کے لیے یہ فارمولہ بھی تسلی بخش تھا، مگر حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ اور ان جیسا فکر رکھنے والے لوگ اس تعبیر میں مضمر فریب اور خطرے کو محسوس کر رہے تھے، یہ وہ مرحلہ تھا جب آپ نے انگریزی اقتدار کے خلاف نہایت جرأت مندانہ فتوی جاری کیا ،جس کے فارسی متن کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے: ’’یہاں رؤساء نصاریٰ (عیسائی افسران) کا حکم بلا د غدغہ اور بے دھڑک جاری ہے اور اُن کا حکم جاری اور نافذ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ملک داری، انتظامات رعیت خراج، باج، عشر ومال گزاری، اموالِ تجارت، ڈاکوؤں اور چوروں کے انتظامات، مقدمات کا تصفیہ، جرائم کی سزاؤں وغیرہ (یعنی سول، فوج، پولیس، دیوانی اور فوج داری معاملات، کسٹم اور ڈیوٹی وغیرہ) میں یہ لوگ بطور خود حاکم اورمختار مطلق ہیں، ہندوستانیوں کو اُن کے بارے میں کوئی دخل نہیں، بے شک نماز جمعہ، عیدین اذان وغیرہ جیسے اسلام کے چند احکام میں وہ رکاوٹ نہیں ڈالتے، لیکن جو چیز ان سب کی جڑ اور حریت کی بنیاد ہے (یعنی ضمیر اور رائے کی آزادی اور شہری آزادی) وہ قطعاً بے حقیقت اور پامال ہے، چناں چہ بے تکلف مسجدوں کو مسمار کردیتے ہیں، عوام کی شہری آزادی ختم ہوچکی ہے، انتہا یہ کہ کوئی مسلمان یا ہندو اُن کے پاسپورٹ اور پرمٹ کے بغیر اس شہر یا اُس کے اطراف وجوانب میں نہیں آسکتا، عام مسافروں یا تاجروں کو شہر میں آنے جانے کی اجازت دینا بھی ملکی مفاد یا عوام کی شہری آزادی کی بنا پر نہیں بلکہ خود اپنے نفع کی خاطر ہے، اس کے بالمقابل خاص خاص ممتاز اور نمایاں حضرات مثلا شجاع الملک اور ولایتی بیگم ان کی اجازت کے بغیر اس ملک میں داخل نہیں ہوسکتے، دہلی سے کلکتہ تک انہیں کی عمل داری ہے، بے شک کچھ دائیں بائیں مثلاً حیدر آباد، لکھنؤ، رام پور میں چوں کہ وہاں کے فرمانرواؤں نے اطاعت قبول کرلی ہے، براہِ راست نصاریٰ کے احکام جاری نہیں ہوتے‘‘۔ (مگر اس سے پورے ملک کے دار الحرب ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا)
(فتاویٰ عزیزی فارسی جلد اول ص ۱۷ مطبوعہ مطبع مجتبائی بحوالہ علماء ہند کا شاندار ماضی جلد دوم صفحہ ۴۴۸۔ ۴۴۹)
یہ اولین فتوی ہے جو انگریزوں کے خلاف دیا گیا اور جس میں دارالحرب کا مخصوص اصطلاحی لفظ استعمال کیا گیا، جس کا صاف اور صریح مطلب یہ ہے کہ ہر محب وطن مسلمان شہری پر فرض ہے کہ وہ ان اجنبی حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کرے اور اس وقت تک سکون سے نہ بیٹھے جب تک قابضین کا ایک ایک فرد ملک کی سرحد سے باہر نہ ہوجائے، حضرت شاہ عبد العزیزؒ کے اس فتوے کا اثر یہ ہوا کہ خواص تو خواص عوام بھی انگریزوں کے خلاف مسلح جدو جہد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
(علمائے ہند کا شاندار ماضی: ۲/ ۱۰۴)
تحریک بالاکوٹ
یہ اسی فتوے کا اثر تھا کہ آپ کی تحریک حریت کے ایک جانباز سپاہی حضرت سید احمد شہیدؒ نے گوالیار کے مہاراجہ کو لکھا کہ یہ ’’بیگانگان، بعید الوطن وتاجران متاع فروش‘‘ آج بادشاہ بن بیٹھے ہیں، سمندر پار اجنبیوں اور سامان بیچنے والوں کا زمام اقتدار سنبھالنا واقعی عار کی بات تھی اور حضرت سید احمد شہیدؒ اس حوالے سے گوالیار کے مہاراجہ کو انگریزوں کے خلاف آمادۂ جنگ کرنا چاہتے تھے، ان خطوط کے علاوہ حضرت سید احمد شہیدؒ اپنے پیرو مرشد رہنما وقائد حضرت شاہ عبدالعزیزدہلویؒ کے حکم پر امیر علی خاں سنبھلی کے پاس بھی تشریف لے گئے جو اس وقت جسونت راؤ ہلکر کے ساتھ مل کر انگریزی فوجوں پر شب خوں مار رہا تھا، ۱۸۱۵ ء تک یہ اشتراک کامیابی کے ساتھ جاری رہا، لیکن انگریزوں نے امیر علی خاں کو نواب کا خطاب اور محفوظ ریاست کا لالچ دے کر ہتھیار رکھنے پر مجبور کردیا، اس صورت حال سے آزردہ خاطر ہوکر حضرت سید احمد شہیدؒ دہلی واپس ہوگئے ، اس طرح ۱۸۱۸ ء تک تمام چھوٹے بڑے علاقے اور ریاستیں انگریزوں کے زیر اقتدار آگئیں۔
حضرت شاہ عبد العزیزؒ نے اپنے ضعف، امراض اور پیرانہ سالی کے باوجود وطن کی آزادی کے لیے اپنی جد وجہد کا سفر جاری رکھا، انگریزوں کو اقتدار سے دور رکھنے میں ناکامی کے باوجود وہ مایوس نہیں ہوئے، اور نہ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے بلکہ انہوں نے بدلے ہوئے حالات میں ایک نیا لائحہ عمل مرتب کیا جس کے تحت دو کمیٹیاں بنائی گئیں، ایک کمیٹی کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں رکھی، اس میں شاہ محمد اسحاق دہلویؒ ، مولانا شاہ محمد یعقوب دہلویؒ ، مفتی رشید الدین دہلویؒ ، مفتی صد ر الدین آزردہؒ ، مولانا حسن علی لکھنویؒ ، مولانا حسین احمد ملیح آبادیؒ اور مولانا شاہ عبد الغنی دہلویؒ جیسے اولو العزم حضرات شامل تھے، اس کمیٹی کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ جہاد کے اصل مرکز کو اس کے اصل کردار کے ساتھ باقی رکھے، تاکہ اس کے ذریعے ایک ایسی نسل کی آب یاری کا سلسلہ جاری رہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے طے کردہ خطوط کے مطابق منبرو محراب کی زینت بننے کی اہل بھی ہو اور محاذ جنگ پر دشمنوں سے طاقت آزمائی کی صلاحیت بھی رکھتی ہو، دوسری کمیٹی کی قیادت حضرت سید احمد شہیدؒ کے سپرد کی گئی اور حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ اور مولانا عبد الحیؒ کواُن کا خصوصی مشیر متعین کیا گیا، اس کمیٹی کے ذمّے یہ کام تھا کہ اس کے اراکین ملک بھر میں گھوم پھر کر عوام بالخصوص علماء کے دلوں میں انقلاب کا جذبہ پیدا کریں، رضا کار بھرتی کریں، اور انہیں محاذ جنگ پر لڑنے کی ٹریننگ دیں، مالیہ فراہم کریں، غیر ممالک کے ساتھ خاص طور پر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کریں، اور جہاں بھی موقع ہو جنگ لڑیں، چناں چہ ۱۸۲۴ء میں حضرت شاہ احمد شہیدؒ نے پورے طور پر خود کو جہاد کے لیے وقف کردیا۔(تاریخ دیوبند: ۱۹۱)
اس مقصد کے لیے حضرت سید احمد شہیدؒ نے سات ہزار میل کا ایک طویل انقلابی دورہ کیا جس کے دوران وہ ہندوستان کے مختلف شہروں کے علاوہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی گئے، اس سفر کا بڑا مقصد یہ تھا کہ عوام کو انگریزوں کے خلاف متحد کیا جائے، ۲۱/ ستمبر ۱۸۲۶ ء کو حضرت سید احمد شہیدؒ نے فوجی کاروائی کا آغاز کیا اور کئی باضابطہ جنگیں لڑیں، ان جنگوں میں حضرت سید احمد شہید ؒ اور ان کے رفقاء نے خوب داد شجاعت دی، ۱۰/ جنوری ۱۸۲۷ء کو عارضی حکومت بھی قائم ہوئی، لیکن ایک طرف مجاہدین کی بے سروسامانی دوسری طرف سکھوں اور انگریزوں کی جدید ترین اسلحہ سے لیس مشترک فوج، بے شمار چھوٹی بڑی جنگوں کے بعد ۱۸۳۱ میں حضرت سید احمد شہیدؒ کی فوج کو ہزیمت اٹھانی پڑی، آپ نے اور آپ کے قریب ترین رفیق حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ اور دوسرے بے شمار ساتھیوں نے بالاکوٹ کے میدان میں جام شہادت نوش کیا۔(تاریخ ہند: ۳۹۸ ،سیر ت سید احمد شہیدؒ ج ۲ ص ۴۱۴)
حضرت سید احمد شہیدؒ کی تحریک اگرچہ وطن کی آزادی کے لیے تھی، مگر اس پر مذہبی رنگ غالب تھا تاکہ عوام میں مذہبی جذبات بیدار ہوں، یہ محض تحریک آزادی ہی نہیں تھی بلکہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے اعمال اور اعتقاد کی اصلاح بھی مقصود تھی، اس تحریک سے وابستہ ہر شخص فوجی جرنیل بھی تھا، اور احیاء سنت کا علم بردار بھی اس تحریک کی بہ دولت ہندوستان کے مسلمانوں کے جسم وجاں میں مذہب کی روح پوری طرح تحلیل ہوچکی تھی، یہی وجہ ہے کہ جب ۱۸۵۷ ء میں انقلاب کی تحریک دو بارہ شروع ہوئی تو انگریزی فوج میں شامل مسلمانوں کو مذہب کے حوالے ہی سے بغاوت پر اُکسایا گیا، انہیں بتلایا گیا کہ جس کار توس کو استعمال کے وقت منہ سے کھینچنا پڑتا ہے اس میں سُور کی چربی ملی ہوئی ہے، یہ سن کر مسلمان فوجی بھڑک گئے اور اس طرح میرٹھ سے تحریک آزادی کے دوسرے دور کا آغاز ہوا۔
حضرت سید احمد شہیدؒ اور حضرت شاہ اسماعیل شہید ؒ کی شہادت کے بعد یہ تحریک ختم نہیں ہوئی، بلکہ وہ جذبہ جو اس تحریک کے ذریعے عوام وخواص کے دلوں میں پروان چڑھا تھا اسی طرح تروتازہ رہا، ابتدا میں یہ ایک چنگاری تھی جو آہستہ آہستہ ایک شعلہ بن گئی ، انگریز اس تحریک کو جسے انہوں نے وہابی تحریک کا نام دیا تھا کچلنے کے لیے پوری طرح سرگرم عمل رہے ۔ ۱۸۴۸ء میں انگریزوں کے ساتھ اس تحریک سے وابستہ افراد نے پنجاب کے متعدد شہروں میں بے شمار جنگیں لڑیں، بہت سے لوگوں نے جام شہادت نوش کیا، بے شمار مجاہدین گرفتار کئے گئے ان پر مقدمات چلے اور انہیں بغاوت کے الزام میں سرِدار چڑھا یا گیا۔
۱۸۵۷ کی جنگ آزادی
۱۸۵۷ء میں شاملی ضلع مظفرنگر کے میدان میں علماء دیوبند نے انگریزوں سے باقاعدہ جنگ کی، جس کے امیرحاجی امدالله مہاجرمکی رحمه الله مقررہوئے، اور اس کی قیادت مولانا رشیداحمدگنگوہی رحمه الله ، مولاناقاسم نانوتوی رحمه الله ، اورمولانا منیر نانوتوی رحمهم الله کررہے تھے، اس جنگ میں حافظ ضامن رحمه الله شہیدہوئے، مولانا قاسم نانوتوی رحمه الله انگریزوں کی گولی لگ کرزخمی ہوئے، انگریزی حکومت کی طرف سے آپ کے نام وارنٹ جاری ہوا؛ لیکن گرفتارنہ ہوسکے، مولانارشیداحمدگنگوہی رحمه الله کو گرفتار کیا گیا اور سہارنپور کے قیدخانہ میں رکھا گیا،پھرکچھ دن کال کوٹھری میں رکھ کرمظفرنگر کے قیدخانہ میں منتقل کیا گیا، چھ ماہ تک آپ کو قیدوبند کی مصیبتیں جھیلنی پڑی۔
۱۸۵۷ء کی جنگ میں بظاہرشکست ہوئی، مگریہ شکست نہیں، فتح تھی۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعدانگریزوں نے اسلام پرحملہ کیا اسلامی عقائد،اسلامی فکراوراسلامی تہذیب کو ہندوستان سے ختم کرنے کافیصلہ کیا، یہاں سے انگریزوں کازوال شروع ہوا،حکومت برطانیہ کا لارڈمیکالے جب وایسرائے بن کرآیا تواس نے مغربی تہذیب اورمغربی فکر،نصرانی عقائد قائم کرنے کاایک پروگرام بنایا،اس نے کہا:”میں ایک ایسانظام تعلیم وضع کرجاوں گا جس سے ہندوستانی مسلمان کا جسم تو کالا ہوگا مگر دماغ گورا یعنی انگریزکی طرح سوچے گا“۔
۱۸۵۷/ کی جنگ آزادی میں علماء کرام نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا، اس جنگ کے لیے علماء کرام نے عوام کو جہاد کی ترغیب دلانے کے لئے ملک کے طول و عرض میں وعظ و تقریر کا بازار گرم کردیا اور جہاد پر ابھارنے کا فریضہ انجام دیا نیز ایک متفقہ فتویٰ جاری کرکے انگریزوں سے جہاد کو فرض عین قرار دیا، اس فتویٰ نے جلتے پر تیل کا کام کیا اور پورے ملک میں آزادی کی آگ بھڑک اٹھی۔
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی مختلف وجوہ و اسباب کی بنا پر ناکام رہی اور آزادی کے متوالوں پر ہول ناک مظالم کے پہاڑ توڑڈالے گئے، ان میں مسلمان اور بطور خاص علماء، انگریزوں کی مشق ستم کا نشانہ بنے، اس لئے کہ انھوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور علماء کرام نے ان کے خلاف فتویٰ دے کر جہاد کا اعلان عام کردیا تھا، چنانچہ ۱۸۵۷ سے چودہ برس پہلے ہی گورنر جنرل ہند نے یہ کہہ دیا تھا کہ مسلمان بنیادی طور پر ہمارے مخالف ہیں اس جنگ میں دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کیاگیا جن میں ساڑھے اکیاون ہزار علماء کرام تھے، انگریز علماء کے اتنے دشمن تھے کہ ڈاڑھی اور لمبے کرتے والوں کو دیکھتے ہی پھانسیاں دے دیتے تھے، ایڈورڈ ٹامسن نے شہادت دی ہے کہ صرف دہلی میں پانچ سو علماء کو پھانسی دی گئی (ریشمی رومال ص:۴۵) پوری دہلی کو مقتل میں تبدیل کردیاگیا تھا مرزا غالب کی زبان میں۔
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر نمونہ بنا ہے زنداں کا
شہر دلی کا ذَ رّہ ذ رّہٴ خا ک
تشنہٴ خوں ہے ہر مسلمان کا
دہلی، کلکتہ، لاہور، بمبئی، پٹنہ، انبالہ، الہ آباد، لکھنوٴ، سہارنپور، شاملی اور ملک کے چپے چپے میں مسلمان اور دیگر مظلوم ہندوستانیوں کی لاشیں نظر آرہی تھیں علماء کرام کو زندہ خنزیر کی کھالوں میں سی دیا جاتا پھر نذر آتش کردیا جاتا تھا کبھی ان کے بدن پر خنزیر کی چربی مل دی جاتی پھر زندہ جلادیا جاتا تھا۔ (ایسٹ انڈیا کمپنی اور باغی علماء)
انڈین نیشنل کانگریس کاقیام اور اس میں مسلمانوں کاحصہ
۱۸۸۴ء میں انڈین نیشنل کانگریس کاپہلااجلاس منعقد ہوا، جس میں بعض ممتاز اہل علم واہل فکر مسلمان بھی شریک تھے، اور اس کا قیام ۱۸۸۵ء میں عمل میں آیا، اس کے بانیوں میں مسلمان بھی شامل تھے، جن کے نام بدرالدین طیب جی اوررحمت الله سیانی تھے، کانگریس کا چوتھا اجلاس ۱۸۸۷ء میں مدراس میں ہوا،جس کی صدارت بدرالدین طیب جی نے کی۔
تحریک ریشمی رومال
۱۹۱۲ء میں ریشمی رومال تحریک کی ابتداء ہوئی، جس کے بانی فرزندِ اول دارالعلوم دیوبند تھے، جن کو دنیا شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن دیوبندی رحمه الله کے نام سے جانتی ہے، بقول مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندوی رحمه الله: ”آپ(شیخ الہند)انگریزی حکومت اور اقتدار کے سخت ترین مخالف تھے،سلطان ٹیپو کے بعد انگریزوں کا ایسا دشمن اورمخالف دیکھنے میں نہیں آیا“۔
اس تحریک میں اہم رول آپ کے شاگرد مولانا عبیدالله سندھی رحمه الله نے ادا کیا، افغانستان کی حکومت کو مدد کے لیے تیار کرنا اور انگریزوں کے خلاف رائے عامہ بنانا مولانا عبیدالله سندھی رحمه الله کامشن تھا، شیخ الہند رحمه الله کے نمائندے ملک کے اندر اور ملک کے باہرسرگرم اورفعال تھے، افغانستان، اورحجازکے اندر قاصد کا کام کررہے تھے، خلافتِ عثمانیہ کے ذمہ داروں سے مثلاً انورپاشاہ وغیرہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، اورترکی جانے کاشیخ الہند نے خود عزم مصمم کرلیا تھا، اس مقصدکے لیے پہلے وہ حجاز تشریف لے گئے اور وہاں تقریباً دوسال قیام رہا،اس اثنا میں دوحج کیے، مکہ مکرمہ پہنچ کر حجاز میں مقیم ترک گورنر غالب پاشا سے ملاقاتیں کیں، اور ترکی کے وزیر جنگ انور پاشا سے بھی ملاقات کی، جو ان دنوں مدینہ آئے ہوئے تھے، انھیں ہندوستان کی صورت حال سے آگاہ کیا اور اپنے منصوبہ سے واقف کرایا،ان دونوں نے شیخ الہند رحمه الله کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے، ان کے منصوبے کی تائید کی اور برطانوی حکومت کے خلاف اپنے اور اپنی حکومت کے تعاون کایقین دلایا، مولانا عبیدالله سندھی رحمه الله نے کابل سے ریشمی رومال پرجو راز دارانہ خطوط شیخ الہند مولانامحمودحسن رحمه الله کو مکہ مکرمہ روانہ کیے تھے، ان کوحکومت برطانیہ کے لوگوں نے پکڑلیا، یہی شیخ الہند رحمه الله کی گرفتاری کاسبب بنی اور پورے منصوبے پر پانی پھیردیا۔۱۹۱۶ء میں شریف حسین کی حکومت نے ان کومدینہ منورہ میں گرفتار کرکے انگریزی حکومت کے حوالہ کردیا، شریف حسین نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت اور غداری کی تھی، وہ برطانوی حکومت کا وفادار دوست تھا اورخلافت عثمانیہ اورمسلمانوں کی تحریک آزادی کاشدید مخالف تھا۔۱۹۱۷ء میں شیخ الہند رحمه الله اور ساتھوں کوبحیرہ روم میں واقع جزیرہ مالٹا جلاوطن کیاگیا، مولاناحسین احمدمدنی رحمهالله، مولاناعزیزگل پیشاوری رحمه الله ،مولاناحکیم نصرت حسین رحمه الله ،مولانا وحیداحمد رحمه الله وغیرہم نے مدتوں اپنے استاذ شیخ الہند رحمه الله کے ساتھ مالٹا کے قیدخانہ میں سختیاں برداشت کیں، مالٹاکے قیدخانہ میں انگریزوں نے شیخ الہند رحمه الله کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کیا، سخت سے سخت سزائیں دی گئیں۔
۱۹۱۹ء میں جمعیة علماء ہند کا قیام عمل میں آیا، جس کا بنیادی مقصد وطن کی آزادی تھا، شیخ الہند رحمه الله کی رہائی کے بعد سب سے پہلے ۲۹جولائی ۱۹۲۰ء کو ترکِ موالات کافتوی شائع کیاگیا، آپ کی وفات کے بعدآپ کے جاں نثار شاگرد مولاناحسین احمد مدنی رحمه الله نے آپ کے اس مشن کو جاری رکھا، مولانامفتی کفایت الله دہلوی رحمه الله کی وفات کے بعد ۱۹۴۰ء سے تادم آخیرجمعیة علماء ہند کے صدررہے، کئی بار برطانوی عدالتوں میں پھانسی کی سزاسے بچے، آپ انگریزوں کی حکومت سے سخت نفرت رکھتے تھے، آپ دارالعلوم دیوبندکے شیخ الحدیث کے منصب پربھی فائز تھے۔ آزادی کے بعداصلاحی کاموں میں مصروف ہوگئے،دینی خدمت وتزکیہ نفوس کے مقدس مشن میں لگے رہے۔
تحریک خلافت اورہندومسلم اتحاد
۱۹۱۹ء میں جلیاں والاباغ سانحہ ہوا جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے، انھیں ایام میں تحریکِ خلافت وجود میں آئی،جس کے بانی مولانا محمد علی جوہر تھے، اس تحریک سے ہندومسلم اتحادعمل میں آیا، گاندھی جی،علی برادران(مولانامحمدعلی جوہر ومولانا شوکت علی)اورمسلم رہنماوٴں کے ساتھ ملک گیر دورہ کیا،اس تحریک نے عوام اورمسلم علماء کوایک پلیٹ فارم پرکھڑا کردیا، الغرض ہندوستان کے اکابر علماء نے سالہا سال کے اختلافات کو نظرانداز کرکے تحریکِ خلافت میں شانہ بشانہ کام کیا۔
تحریکِ ترک موالات
ّ
۱۹۲۰ء میں گاندھی جی اورمولانا ابوالکلام آزادنے غیرملکی مال کے بائیکاٹ اورنان کوآپریشن(ترک موالات) کی تجویز پیش کی، یہ بہت کارگر ہتھیار تھا، جواس جنگ آزادی اورقومی جدوجہد میں استعمال کیا گیا، انگریزی حکومت اس کا پورا پورا نوٹس لینے پر مجبور ہوئی اوراس کا خطرہ پیدا ہوا کہ پورا ملکی نظام مفلوج ہوجائے اورعام بغاوت پھیل جائے، آثار انگریزی حکومت کے خاتمہ کی کی پیشینگوئی کررہے تھے۔(ہندوستانی مسلمان: ۱۵۷)
آزادی
۱۹۲۰ء میں موپلا بغاوت،۱۹۲۲ء میں پولیس فائرنگ،۱۹۳۰ء میں تحریک سول نافرمانی ونمک آندولن، ۱۹۴۲ء میں ہندوستان چھوڑوتحریک(Quit India Movement)، ۱۹۴۶ء میں ممبئی میں بحری بیڑے کی بغاوت کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں پر پولیس فائرنگ کے دوران ہزاروں لوگ شہید ہوئے، انگریزوں کی قیدوبند کے مصائب جھیلنے اورانکی گولیوں کانشانہ بننے والوں کی تعداد تو شمار سے باہرہے، ہندو مسلم سب نے مل کر آخری موقع پر انگریزوں کو بھگانے میں کوشش کی، مسلمان تو ایک زمانے سے اس جنگ میں شامل تھے، آج ان کو فراموش کیا جارہا ہے، بہرحال ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو یہ ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا، ہندوستان کوطویل جدوجہدکے بعدآزادی کی نعمت حاصل ہوئی۔
جب پڑاوقت گلستاں پہ توخوں ہم نے دیا
جب بہارآئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں
مگر یہ بھی بڑا قومی المیہ ہے کہ ۱۵/ اگست اور ۲۶ جنوری کے تاریخ ساز اور یادگار قومی دن کے مبارک و مسعود موقع پر جب مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے، ان کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، تو ان علماء کرام اور مجاہدین حریت کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے جنھوں نے ملک کی آزادی کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مالٹا اور کالا پانی میں ہر طرح کی اذیتیں جھیلیں اور جان نثاری و سرفروشی کی ایسی مثال قائم کیں جن کی نظیر نہیں ملتی اور ملک کا چپہ چپہ ان کی قربانیوں کا چشم دید گواہ ہے۔
پتہ پتہ بو ٹا بو ٹا حا ل ہما ر ا جا نے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے
اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا
بزم خطب
کاپی پیسٹ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں