*یومِ آزادی*
*یومِ آزادی*
14/8/2022
۱۵/۱/١٤٤٤/
بقلم مولانا ناظم صاحب ملی
استاذ جامعہ اسلامیہ
اشاعت العلوم اکل کوا
مہاراشٹرا
(مندرجۂ ذیل مضمون مولانا کی رقم کردہ ایک پرمغز تقریر ہے جو یومِ آزادی کی حقیقت بیانی پرمشتمل ہے۔
افادۂ عام کی خاطر اسے واٹساپ پر بھی ارسال کیا جارہاہے)(محمد رمیز)
*الحمد للّٰه وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده
أما بعد!*
میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
مِرا وطن وہی ہے مِرا وطن وہی ہے
*معزز صدرِ جلسہ*:- *ذیشان جج صاحبان*- *شمعِ نبوت کے پروانوں*!
ہندوستان جنت نشان جس کو مسلمانوں نے ہر طرح بنایا سنوارا اور اس کو سولہ سنگھار لگایا۔بڑی شان و شوکت ، عظمت وافتخار ، محبت واُخوت دے کر اس کے اَنگ اَنگ کو رعنائی بخشی۔
جی ہاں مسلمانوں ، بالخصوص علما ءِ کرام نے اپنے اس پیارے ملک کو تہذیبی ، تمدنی، تاریخی لِسانی،جمالیاتی الغرض ہر پہلوِ زندگی سے آشنا اور مزین کیا۔ ترقی دی ، خوشحال و مالا مال کیا۔
یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے اس ملک سے محبت میں یہ تک کہہ دیا۔
اگر جنت برروئے زمین است
ہمیں است ہمیں است ہمیں است
اور یہ بھی مسلمانوں نے ہی کہا تھا۔
"سارے جہاں سےاچھا ہندوستان ہمارا"
مسلمانوں کی ملک سے محبت کی ایک نہیں ، دونہیں، سو نہیں، ہزارنہیں، لاکھ نہیں، لاکھوں لاکھ مثالیں صفحۂ دھرتی پر موجود ہیں۔
چپہ چپہ بوٹا بوٹاحال ہماراجانے ہیں
جانےنہ جانےگل ہی نہ جانےباغ تو سارا جانے ہیں۔
سامعینِ باتمکین! غلام ہندوستان کو آزادی کی نعمت سے مالا مال کرنے کے لئے کس نے کیا کیا ؟اور کس نے کیا دیا ؟جس کا جواب تاریخ کا صحیح اور صاف ذہنیت کے ساتھ مطالعہ کرنے ہی سے مل سکتا ہے ۔ ورنہ میں تو کہتا ہوں ، اوروں نے قربانیاں دی ہوگی۔ انکار نہیں ۔ اوروں نے جیلیں کاٹی ہوگی. انکار نہیں۔ مگر اِتِّہَاسْ گواہ ہے ، کہ ناشتے کے دسترخوان پر باپ کے سامنے کٹے ہوئے سر پیش کئے گئے تو وہ سر مسلمان بچوں کےتھے۔ پنجاب سے کوئٹہ تک کوئی درخت ایسا نہ تھا ، جس پر کسی کو لٹکایا نہ گیا ہوں ۔
*مادرِ وطن کی خاک سے پوچھو*! وہ سرفروش جانباز مسلمان ہی تھے جو مادر وطن کی عزت وناموس پر قربان ہوگئے۔"صادق پور"جو علماء کی بستی تھی، پوری بستی کومنہدم کردیا گیا۔بسے بسائے گھر اجاڑ دیے گئے ، انگریز خونخوار بھیڑیوں نے بچوں بوڑھوں اور دوشیزاؤں کو تباہ و برباد کر دیا ، گھر سے بے گھر کر دیا۔
ذرا تاریخ سے پوچھو تو سہی! وہ کون تھے؟ کس قوم کے سپوت تھے؟ ہاں یہ کالی کملی والے کےوہ وفا شِعار غلام تھے ، جن کو علماء کہا جاتا ہے۔یہی علماء توتھے جنہوں نے بعبور دریائے شور ، یعنی کالے پانی کی سزائیں کاٹیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ اپنے ملک گلشنِ ہند کو انگریز کے ہاتھوں تاراج ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ انہوں نے ہر لحاظ سے اورہر محاذ پر گوری چمڑی اور کالے دل انگریز سے مقابلہ کیا۔
*بقول شاعر*
جب گلستان کو خون کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی
*حضرات!میں پوچھتا ہوں!* وہ کون تھا جس نے یہ کہا تھا کہ «غلامی کی ہزار سالہ زندگی سے آزادی کا ایک لمحہ قیمتی ہے »کس کی موت پر انگریز اچھل گیا تھا ؟ اور زمین پر ٹھوکر مار کر بڑے اطمینان سے کہا تھا ؟اب ہندوستان ہمارا ہے۔
*وہ کون تھا*؟جس نے یہ کہا تھا کہ اب ہندوستان دارالحرب ہو گیا ہے۔
اور اب انگریز سے سوائے جنگ کے اب کوئی راستہ نہیں! وہ کون تھا؟جس نے یہ کہا" میں اس کُتّے سے بھی پیار کرونگا جو کسی انگریز کو بھونکے۔ اس لیے کہ اس کا دشمن اور میرا دشمن ایک ہے. میں اس چیونٹی کو بھی شکر کھلاؤنگا جو کسی انگریزکو ڈَسَے ۔" وہ کون تھا جس نے سلطنتِ برطانیہ کے اِیوانِ بالا میں جرأتِ رِندانہ اور اپنی دُھواں دار تقریر سے کُہرام مچا دیا تھا ۔بالآخر مادرِ گیتی سےدوردھرتی کایہ سپوت، جس کو دنیا "محمد علی جوہر" کے نام سے جانتی ہے ۔ اپنے رب سے جا ملا ۔
*تاریخ سے پوچھو!* اتہاس کے پنّے پلٹو! تمہیں وہاں نظر آئے گا۔ شاملی کے میدان میں کون لڑا؟ بالاکوٹ کی پہاڑیوں پر کون شہید ہوا ؟ کیا سراج الدولہ کو تم بھول گئے ؟ ٹیپو شہید بھی تم کو یاد نہیں؟ کیا بہادر شاہ ظفر ، سید اسماعیل شہید ، سید احمد شہید اور اسیرانِ مالٹا اور بعبوردریائے شور اور کالے پانی کی سزا کاٹنے والے علماء بھی تمہیں یاد نہیں ۔ وہ کون تھے؟ کس قوم کے سپوت تھے؟ جو دشمن کو یہ کہہ کر للکار رہے تھے۔
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوے قاتل میں ہے
اے مِرے ملک کے لوگوں! کیا تم امام الہند ابوالکلام آزاد کو بھی بھول گئے۔ابھی کل کی تو بات ہے ،کہ ملک کی عزت و ناموس اور آزادی کی خاطر جیل گئے۔یہاں تک کہ اپنی شریکِ حیات، اپنی چہیتی بیوی کا آخری دیدار بھی نہ کر سکے۔کیاجنرل شاہنوازحسین،ڈاکٹر ذاکر حسین، رفیع احمد قدوائی،مولیٰنا حفظ الرحمٰن سیوہاروی،عبدالحمید نعمانی،اور دشمنوں کے ٹینکوں کے سامنے سینہ سِپَر ہو کر کھڑا ہونے والاوِیْرْ عبدالحمید اور تختۂ دار پر ملک کے لیے خوشی سے لٹک جانے والا سَرْ اشفاق اللّٰہ خان تمہیں یاد نہیں؟جَلْیَان والاخونی نقشہ کیسے بھلایا جائےگا۔؟
کون تھا سینہ سِپر کھائی تھی کس نے گولی
خون سے کس کے وہاں کھیلی گئی تھی ہولی!
آج تم کل کی ہر ایک بات بھلا بیٹھے ہو
قصہ خوانی کی حِکایات بھلا بیٹھے ہو
اۓ آزاد ہند کی فضاؤں میں جینے والے لوگو!
آج کا یہ پندرہ اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے کیا ہندو کیا مسلم ، کیا سیکھ، کیا عیسائی سب نے اس ملک کو آزاد کرانے کے لئے جو بڑی بڑی قربانیاں پیش کی تھی جس کا مقصدتھا ۔ کہ یہاں ہر ایک کو چین کا سانس اور سکون کی روٹی ملے گی ۔ بھائی چارہ قائم رہےگا۔ مگر آہ کے خواب، خواب ہی رہے ۔ بلکہ سراب ثابت ہوئے ۔ مگر ہم مایوس نہیں ہیں ۔ ملک نے ہمیں ایک سَمِّیدَھان دیا۔ جو آج بھی چمک رہا ہے۔
چمک رہا ہے جہاں میں مِرے فن کیطرح
نہیں ہے کوئی چمن مِرے وطن کیطرح
آج بھی گاندھی جی ، نہرو جی، اور ڈاکٹر امبیڈکر ، مولانا ابوالکلام آزاد ، حسین احمد مدنی ، محمود الحسن دیوبندی، ڈاکٹر ذاکرحسین کی روح، شہید بھگت سنگھ اور سر اشفاق اللّٰہ خان کی روح ہم سے تڑپ کر کہہ رہی ہے
شکوۂِ ظلمتِ شب سے کہیں بہتر تھا۔
تم اپنے حصے کی شمع ہی جلا جاتے۔
آئیے آج پھر عہد کریں کہ اس ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے ہم دل و جان سے وطن کی خدمت کو اپنا شِعار بنائیں گے۔اور محبت کے دریا بہائیں گے۔ گنگا جمنی تہذیب سے لوگوں کو آشنا کرائیں گے ۔ اور یہ بتائیں گے کہ زمین سے آسمان تک مرِی رگِ جان تک صرف اور صرف ہندوستان اور ہندوستان ہی ہو۔ہم ہندو ہیں ، ہم مسلم ہیں، ہم سیکھ ہیں، ہم عیسائی ہیں کچھ بھی ہیں۔ مگر یاد رکھیں کہ ہم ہندوستانی ہیں۔
اگر کوئی ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھے گا ۔ تو ہم اس کو صرف اور صرف ایک ہی قوم یعنی ہندوستانی نظر آئیں گے اور دشمنوں کے مقابلے میں سِیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے۔ بس آخر میں ایک چھوٹا سا پیغام آپ کے اور تمام ہندوستانیوں کے نام۔
یہ نفرت بری ہے نہ پالوں اسے
دلوں میں خراش ہے نکالوں اسے
نہ تیرا نہ میرانہ اِس کا نہ اُس کا
یہ سب کا وطن ہے بچالوں اسے
*اور جاتے جاتے:*
اس دیش کی کشتی کو ہم لاتے تھے بھنور سے نکال کے
اس دیش کو رکھنا مِرے بچوں سنبھال کے
ہندوستان زندہ باد۔ہندوستان زندہ باد۔
مہاراشٹر پائندہ آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں