نبی اکرم ﷺ بحیثیت تاجر Part 1
نبی اکرم ﷺ بحیثیت تاجر
نبی اکرم تجارتی اسفار میں اپنے اخلاقِ کریمانہ اورصدق ودیانت کی وجہ سے اتنے زیادہ مشہور ہو چکے تھے کہ خلقِ خدا میں ’’صادق وامین ‘‘
کے لقب سے مشہور ہو گئے
کائنات میں بسنے والے ہر ہر فرد کی کامل رہبری کیلئے اللہ رب العزت کی طرف سے رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، سب سے آخر میں بھیج کر قیامت تک کے لیے آنجناب کے سر پر تمام جہانوں کی سرداری ونبوت کا تاج رکھ کر اعلان کر دیا گیاکہ: اے دنیا بھر میں بسنے والے انسانو! اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر اور پْرسکون بنانا چاہتے ہو تو تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہستی میں بہترین نمونہ موجود ہے(الاحزاب21)۔
رسول اکرم ﷺ سے رہنمائی حاصل کرو اور دنیا وآخرت کی ابدی خوشیوں اور نعمتوں کو اپنا مقدر بناؤ۔ گویا کہ اس اعلان میں دنیا میں بسنے والے ہر ہر انسان کو دعوت ِعام دی گئی ہے کہ جہاں ہو، جس شعبے میں ہو، جس قسم کی رہنمائی چاہتے ہو، جس وقت چاہتے ہو، تمہیں مایوسی نہ ہو گی، تمہیں تمہاری مطلوبہ چیز سے متعلق مکمل رہنمائی ملے گی، شرط یہ ہے کہ تم میں طلبِ صادق ہو، چنانچہ! تاجر ہو یا کاشتکار،شریک ہو یا مضارب، مزدور ہو یا کوئی بھی محنت کَش، ماں ہو یا باپ، بیٹا ہو یا بیٹی، میاں ہو یا بیوی، مسافر ہو یا مقیم، صحت مند ہو یا مریض، شہری ہو یا دیہاتی، پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ،اگر وہ چاہے کہ میرے لیے میرے شعبے میں رہنمائی ملے تو اس کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہستی میں نمونہ موجود ہے۔مذکورہ آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے سامنے جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لا کھڑا کیا ہے کہ میرے اس محبوب کو دیکھو، تمہیں ہر چیز ملے گی، اپنے سے متعلق روشنی حاصل کرو اور اس پر عمل پیرا ہو کر اللہ کے محبوب بن جاؤ۔تفسیر ابن کثیر میں آیتِ بالا کی تشریح میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
" یہ آیت کریمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کی اتباع کرنے میں بہت بڑی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔"
یہی وجہ ہے کہ علمائے امت نے امتِ محمدیہؐ کی آسانی اور سہولت کی خاطر جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے ہر ہر پہلو کو پوری طرح واضح کرنے کے لیے خوب سے خوب محنت کی، بے شمار کتب تصنیف کیں تا کہ کوئی بھی شخص اپنے شعبے سے متعلق جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کو دیکھنا چاہے تو اسے بغیر دقّت کے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی تعلیمات معلوم ہو سکیں۔جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر حق بھی ہے اور محبت کا تقاضا بھی اور یہ بات بھی پوری طرح واضح رہنی چاہیے کہ یہ حق اور تقاضا صرف ماہِ ربیع الاول کے پہلے 12 دن یاپورے مہینے کے لیے ہی نہیںبلکہ پوری زندگی اور زندگی کے ہر ہر لمحے کے لیے ہے۔
ان سطور سے مقصود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیاتِ طیبہ کو سمیٹنا نہیں بلکہ صرف آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی سیرتِ طیبہ سے تجارت کے پہلو کو واضح کرنا مقصود ہے۔آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے تجارت کا پیشہ اپنایا اور رزقِ حلال سے اپنی زندگی کا رشتہ اْستوار رکھا۔ نبوت کے اس پہلو کو سمجھنے کے لیے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کے 2حصے ہیں۔ ایک: نبوت ملنے سے قبل کا اوردوسرا: نبوت ملنے کے بعد کا۔ اول الذکر کا دورانیہ40 سال ہے اور ثانی الذکر کادورانیہ23 سال۔اس دوسرے حصے کے پھر 2 حصے ہیں۔ ایک: مکی دور اور دوسرا: مدنی دور۔
جاری ۔۔۔۔۔۔
منقول
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں