نبی اکرم ﷺ بحیثیت تاجر Part 2

 نبی اکرم ﷺ بحیثیت تاجر


نبی اکرم تجارتی اسفار میں اپنے اخلاقِ کریمانہ اورصدق ودیانت کی وجہ سے اتنے زیادہ مشہور ہو چکے تھے کہ خلقِ خدا میں ’’صادق وامین ‘‘

کے لقب سے مشہور ہو گئے


( قسط ۔ ۲) 

نبوت سے قبل کی معاشی کیفیت :

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوت سے پہلے والا دور مالی اور معاشی اعتبار سے کوئی خوش الحال دور نہیں تھا لیکن اس کے برعکس یہ کہنا بھی درست نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی زیادہ مفلوک الحال زندگی بسرکر رہے تھے البتہ یہ ضرور تھا کہ آنجناب بچپن سے ہی محنت ومشقت کر کے اپنی مدد آپ ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کا ذہن رکھتے تھے۔

    والد کی طرف سے ملنے والی میراث :

     جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرسے والد کا سایہ اٹھ چکا تھا۔ ان کی طرف سے بطورِ میراث بھی کوئی جائیداد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منتقل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ کتب ِ سیرت میں اس کی تفصیل میں صرف یہ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میراث میں صرف 5 اونٹ، چند بکریاں اور ایک باندی ملی، جس کا نام ’’ام ایمن‘‘ تھا (اس باندی کو بھی جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے وقت یعنی25 سال کی عمر میں آزاد کر دیا تھا)۔ اس کے علاوہ مزید کوئی چیز میراث میں نہ ملی تھی، ملاحظہ ہو:

    ’’ترک عبدُاللّٰہ بنْ عبدِ المطلبْ اُ مَ ایمنَ وخمسۃَ احمالِ اوارکَ، یعنی: تاکل الاراک، وقطعۃ غنم، فورث ذٰلک رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ذکر وفات عبد اللہ بن عبد المطلب)۔

میراث میں ملنے والی اشیاء اس قابل نہ تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت کے لیے کافی ہو جاتی، یہی وجہ تھی کہ دیہاتی علاقوں سے آکر جو عورتیں بچوں کو پرورش اور تربیت کے لیے لے جایا کرتی تھیں، آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف ان میں سے کسی کا بھی رجحان نہیں ہوا کہ یہ تو یتیم اور غریب بچہ ہے،اس کی پرورش کرنے پر ہمیں اس کی والدہ کی طرف سے کچھ خاص معاوضہ نہ مل سکے گا اور حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے جو آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا انتخاب کیا تھا، وہ بھی ابتداء ً نہیں کیا تھا بلکہ جب ان کے لیے کوئی اور بچہ نہ بچا تو پھر ان کو خیال آیاکہ چلو خالی ہاتھ واپس جانے کے بجائے اس یتیم بچے کو ہی لے جانا چاہیے۔

    دادا اور چچا کی کفالت میں :

      ان ابتدائی2 سالوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب کرتے رہے۔2سال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔دادا کے انتقال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت اپنے ذمہ لے لی۔ابو طالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا تھے جو بہت ہی ذوق وشوق اور محبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضروریات پوری کرنے کی اپنی مقدور بھر سعی کرتے رہے چنانچہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا جب تجارت کی غرض سے دوسرے شہروں میں جاتے تو اپنے بھتیجے کو بھی ہمراہ لے جاتے تھے۔

بکریاں چرانا :

    مکہ مکرمہ میں حصولِ معاش کے لیے عام طور پر گلہ بانی اور تجارت عام تھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ کی ابتداء میں ہی اپنے معاش کے بارے میں از خود فکر کی۔ ابتدا ء ً اہلِ مکہ کی بکریاں اجرت پر چراتے تھے، بعد میں تجارت کا پیشہ بھی اختیار کیا، اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں تھی بلکہ یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور تواضع کی کھلی دلیل ہے اس لیے کہ بکریاں چرانے والے شخص میں جفاکشی، تحمل وبردباری اور نرم دلی پیدا ہو جاتی ہے اس لیے کہ بکریاں چرانا معمولی کام نہیں بلکہ بہت ہی زیادہ ہوشیاری اور بیدار مغزی والا کام ہے اس لیے کہ بکریاں بہت کمزور مخلوق ہوتی ہیں، تیز اور پھرتیلی ہوتی ہیں، انھیں قابو میں رکھنے کے لیے بھی خوب پھرتی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس جانور کے قابو سے باہر ہونے کی صورت میں ان پر غصہ اتارنا بھی ممکن نہیں، یعنی: غصہ کی وجہ سے مار بھی نہیں سکتے کیونکہ وہ کمزور ہوتی ہیں۔ اس بنا پر بکریاں چرانے والوں میں کافی تحمل پیدا ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے بکریاں چرائی ہیں، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ نے جو بھی نبی بھیجا، اس نے بکریاں ضرور چرائیں۔

    صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ نے بھی چرائیں ؟

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:

    " ہاں! میں بھی مکہ والوں کی بکریاں قراریط پر چراتا تھا۔"(صحیح البخاری، کتاب الاجارات، باب رعی الغنم علی قراریط)۔

    حدیث مبارکہ کے عربی متن میں’’قراریط‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اس میں اختلاف ہے ۔بعض کا قول یہ ہے کہ یہ درہم یا دینار کے ایک ٹکڑے کا نام ہے۔اس صورت میں مطلب یہ بنے گا کہ کچھ قراریط کے عوض بکریاں چرائیں اور بعض کا قول ہے کہ یہ مکہ مکرمہ کے ایک محلہ ’’اجیاد‘‘کاپرانا نام ہے۔اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ مقام قراریط میں بکریاں چرائیں۔

اسی طرح ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ جنگل تشریف لے گئے۔ صحابہؓ بیریاں توڑ توڑ کر کھانے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو خوب سیاہ ہوں وہ کھاؤ، وہ زیادہ مزے کی ہوتی ہیں، یہ میرا اُس زمانے کاتجربہ ہے، جب میں بچپن میں یہاں بکریاں چرایا کرتا تھا (صحیح ابن حبان، کتاب الاجارۃ)۔   

جاری۔۔۔۔۔ 

منقول

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سبق جلدی کیسے یاد کریں؟

علماء کے خون سے رنگین ہے داستان آزادی ہند