مضمون نگاری کے چند اصول 2
بقیہ : نانا جان کی زندگی ۔۔۔
☜ "چورہ چورہ"——— یہ لفظ "ہ" کے بجاۓ "ا" سے آتا ہے : چورا چورا
☜ "کمزوری"——— اس کو یوں لکھیے : کم زوری
☜ "پھولوں کو لئے"——— "لئے" میں ہمزہ کے بجاۓ "ی" آنی چاہیے : لیے
☜ "اپنے جذبات پے قابو"——— :پے" "ے" سے نہیں ؛ بلکہ" ہ" سے آتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ نثر میں اس "پہ" کا استعمال تقریبا نا کے برابر ہے۔ بعض لوگ اس کی بڑی مخالفت کرتے ہیں۔ مگر شاعری میں اس کی گنجائش ہے۔
☜ "آخیر" ——— اس کو یوں لکھا جاتا ہے : آخر یا پھر اس طرح اخیر
☜ "صورتحال"——— اس کو یوں لکھیے : صورت حال
☜ "سورہ یاسین شریف کی تلاوت نانا جان کے کانوں پر پڑھی جانے لگی"——— اس کو یوں ہونا چاہیے : سورہ یاسین کی تلاوت نانا جان کے کانوں کے سامنے کی جانے لگی یا سورہ یاسین نانا جان کے کانوں کے سامنے پڑھی جانے لگی۔
☜ رب کی عطاء کی ہوئی —–یہاں پر :عطاء" کے آخر میں ہمزہ نہیں آۓ گا۔ اسی طرح علما ، فضلا اور شرفا جیسے الفاظ کے آخر میں بھی ہمزہ نہیں آتا ہے۔ ہاں جب یہ الفاظ مضاف یا موصوف بنیں ، تو آتا ہے۔ جیسے علماء کرام اور فضلاء مدارس وغیرہ۔
☜ "شہادت حق زبان سے ادا کراۓ جانے لگے"——— "شہادت" کا لفظ مؤنث ہے ؛ اس لیے ہونا چاہیے : شہادت حق زبان سے ادا کرائی جانے لگی۔
☜ "11 بج کر 45"——— اردو تحریروں میں جہاں تک ہو سکے ، کوشش ہونی چاہیے کہ اعداد اور گنتیاں بھی اردو میں ہی ہوں۔
☜ "نگاہیں دوڑائی"——— "نگاہیں" جمع ہے ، اس کی مناسبت سے "دوڑائی" کے بجاۓ 'دوڑائیں' ہونا چاہیے۔
☜ "دلاسہ"——— اس کو الف کے ساتھ لکھنا چاہیے۔
☜ "راہے تک رہے ہیں"——— "راہے" اس طرح ہوتا ہے : راہیں
ماشاءاللہ! آپ اچھا لکھ لیتے ہیں۔ ذرا اور محنت کر لیجیے ، ان شاءاللہ! پھر منزل نظر آ جاۓ گی۔
ایک بات کہنے کی یہ ہے کہ آپ کی تحریر میں رموز اوقاف کا اہتمام بالکل نا کے برابر ہے۔ یہ انتہائی ضروری ہے ؛ اس لیے اس کا خوب اہتمام ہونا چاہیے۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں