تکبیر تشریق احکام ومسائل
*تکبیر تشریق احکام ومسائل*
بسم الله الرحمن الرحيم
*تشریق کسے کہتے ہیں ؟*
تشریق کے معنی ہیں گوشت کو دھوپ میں ڈالنا ۔ چوں کہ ان دنوں میں قربانی کا گوشت سُکھایا جاتا ہے اس لیے دسویں تاریخ کے بعد ان تین دنوں کو ایامِ تشریق کہا جاتا ہے ۔
*تکبیراتِ تشریق سے کیا مراد ہے ؟*
ایَّامِ تشریق میں فرض نمازوں کے بعد تکبیریں کہی جاتی ہیں ، انہیں تکبیراتِ تشریق کہتے ہیں ۔
*تکبیرات تشریق کا ثبوت*
تکبیرات تشریق شیوخ صحابہ رضی اللہ عنھم سے مروی ہیں ... *قال العلامة الکاسانی: اتفق شیوخ الصحابة نحو عمر و علی و عبد الله بن مسعود و عائشة رضی الله عنهم علی البدایة بصلاۃ الفجر من یوم عرفة و به اخذ علماؤنا*
*📖 بدائع الصنائع : 1 / 458 ، فصل فی وجوب التکبیر ایام التشریق*
*قلت اما روایة ابن مسعود و علی ذکرہ محمد بن الحسن فی کتابه الاثار : 42 ، برقم : 208 و الحاکم فی المستدرک : 1 / 299 ، رقم : 300 ، و اما روایة عمر فاخرجه الحاکم فی المستدرک : 1 / 299 ، فی کتاب العیدین*
*تکبیراتِ تشریق کب سے کب تک واجب ہیں ؟*
یومِ عرفہ ، یومِ نحر اور تین دن ایَّامِ تشریق کے ، کل پانچ دن کہی جاتی ہیں ۔
یومِ عرفہ ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو اور یومِ نحر دسویں تاریخ کو کہتے ہیں ۔ *نویں تاریخ کو نماز ِفجر کے بعد سے تکبیر شروع ہوتی ہے اور پھر ہر فرض نماز کے بعد تیرھویں تاریخ کی عصر تک تکبیر کہنا واجب ہے ۔*
*تکبیر تشریق کیا ہے اور کتنی مرتبہ پڑھنی واجب ہے ؟*
تکبیر ِتشرق یہ ہے : *’’ *الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد* ‘‘ اور اسے ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے ۔
*تکبیرات تشریق کن کن پر ہیں ؟*
کبیرِ تشریق امام ، مقتدی اور منفرد ( تنہا نماز پڑھنے والا ) عورت ، مرد ، مسافر ، مقیم ، شہر والوں اور گاؤں والوں سب پر واجب ہے ، مرد زور سے پڑھے اور عورت آہستہ ، دھیمی آواز میں پڑھے ...
*تنبیہ : بہت سے لوگ اس میں غفلت کرتے ہیں ، اس تکبیر کو پڑھتے نہیں یا آہستہ پڑھ لیتے ہیں ، حالاں کہ اس کو درمیانہ طریقہ پر بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے ، اس کی اصلاح ضروری ہے ۔*
تکبیراتِ تشریق کے مسائل
*⃣ تکبیراتِ تشریق واجب سمجھ کر تین مرتبہ کہنا خلافِ سنت ہے ؛ لیکن اگر واجب نہ سمجھیں ؛ بلکہ ذکر مستحب کے طور پر تکبیرِ تشریق کئی مرتبہ دہرالیں تو اِس میں کوئی حرج نہیں ہے ؛ بلکہ اِس میں اضافی ثواب الگ سے ملے گا ۔
1⃣ اگر امام نے یہ تکبیر نہ کہی ہو خواہ قصداً ( جان بوجھ ) خواہ بھول سے تو مقتدیوں کو پھر بھی تکبیر کہنا ضروری ہے ۔
2⃣ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد جب تک قبلہ سے سینہ نہ پھیرا ہو اور نہ کوئی ایسا کام کیا ہو جس سے نماز کی بنا ممنوع ہو جاتی ہے ، اس وقت تک یہ تکبیر کہنا ضروری ہے ۔
3⃣ نماز کے سلام کے بعد اگر کسی نے قہقہہ لگایا ، یا عمداً ( جان بوجھ ) حدث کیا ، یا کلام ( بات چیت ) کیا تو اب یہ تکبیر نہیں کہہ سکتا ۔ البتہ اگر سلام کے بعد خود بخود حدث ہوگیا ہو تو یہ تکبیر کہہ لے کیوں کہ ان کے لیے وضو شرط نہیں ہے ۔
4⃣ مسبوق جس کی رکعت رہ گئی ہو وہ بھی اپنی رکعت پوری کرنے کے بعد یہ تکبیر کہے گا ۔ لیکن اگر بھول کر امام کے ساتھ تکبیر تشریق کہہ لے تو بھی نماز ہوگئی اور لاحق جس کی رکعت امام کی اقتدا کرنے کے بعد رہ گئی ہو اس پر بھی یہ تکبیر واجب ہے ۔
5⃣ نماز فرض کے بعد فوراً تکبیرِ تشریق کہہ لینی چاہیے ، اگر زیادہ وقفہ ہوجائے گا تو اُس کا وقت نکل جائے گا ، اور اگر دعا مانگتے وقت یاد آجائے تو اُس وقت بھی پڑھ لینے سے واجب ادا جائے گا ۔
6⃣ عیدالاضحی کی نماز کے بعد بالجہر تکبیر تشریق پڑھنا بالاتفاق ثابت اور جائز ہے ۔
7⃣ اَیامِ تشریق میں جمعہ کی نماز کے بعد بھی بآواز بلند تکبیر تشریق پڑھی جائے گی ۔
8⃣ عیدالفطر میں بھی تکبیر کی کثرت کا حکم ہے ؛ لیکن اس کو آہستہ پڑھا جائے گا ۔
9⃣ اگر مسجد میں یاد آیا تو کہہ دے اور اگر مسجد سے باہر نکل چکا تو نہ کہے اور آئندہ کے لیے خیال رکھے اور استغفار بھی پڑھ لے ۔
🔟 جن دنوں میں یہ تکبیر کہی جاتی ہے اگر ان دنوں کی کوئی نماز رہ گئی ہو اب اگر اس کی قضا اسی سال کے ان ہی دنوں میں کی جائے گی تب تو یہ تکبیر کہی جائے گی ورنہ نہیں ۔ مثلاً : نویں تاریخ کی نماز کی قضا اسی سال کی دسویں کو کی جائے تو تکبیر بھی نماز کے بعد کہی جائے ، اور اگر اس کی قضا ان دنوں کے گزرنے کے بعد یا اگلے سال کے ان ہی دنوں میں کی جائے ، اسی طرح ان دنوں سے پہلے کی قضا نماز اگر ان دنوں میں پڑھے تو یہ تکبیر نہ کہے ۔
*عشرہ ذی الحجہ و ایام تشریق وقربانی کے فضائل ومسائل واحکام*
منقول
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں