مضمون نگاری کے چند اصول
بقیہ : بچھڑا کچھ اس ادا سے ۔۔۔ (چوتھی قسط)
☜ "کوئی قصر نہ چھوڑتے" ——— اس محاورے میں "قصر" بڑے "قاف" اور "صاد" سے نہیں ؛ بلکہ چھوٹے 'کاف' اور 'سین' سے لکھا جاتا ہے۔ یوں : کسر
☜ "علمی ، و عملی میدان" ——— یہاں سکتے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
☜ ۔۔۔ "یادیں ہی یاد گار بن کر رہ گئی۔"——— یہ جملہ مفہوم و معنی کے لحاظ سے زیادہ ٹھیک نہیں۔
☜ "علماء ، اولیاء صلحاء ،" ——— اس سے پہلے بہت سی دفعہ یہ ضابطہ آ چکا ہے کہ علما ، فضلا اور صلحا جیسے الفاظ کے آخر میں ہمزہ نہیں آتا۔ صرف اس صورت میں آتا ہے ، جب کہ اس طرح کے الفاظ مضاف یا موصوف بنیں۔ جیسے : علماء ہند ، فضلاء مدارس اور فقراء بے دست و پا وغیرہ۔
☜ "عشاء" ——— اس کو بھی علما اور صلحا وغیرہ پر قیاس کیجیے!
☜ "عالم اسلام کی شہرت یافتہ ام المدارس دارالعلوم دیوبند" ——— اس کو یا تو یوں لکھنا چاہیے : 'عالم اسلام کی شہرت یافتہ عظیم دینی درس گاہ ام المدارس دارالعلوم دیوبند' یا پھر یوں : عالم اسلام کا شہرت یافتہ ادارہ/ دینی درس گاہ)/ عظیم دینی درس گاہ دارالعلوم دیوبند
☜ "از خود ختم قرآن کرکے" ——— اس کی جگہ 'رضا کارانہ طور پر' یا 'اپنی خوشی اور رضامندی سے' جیسی تعبیریں زیادہ بہتر رہتیں۔
☜ "ماشاءاللہ" ———ماشاءاللہ ، سبحان اللہ ، الحمدللہ اور جزاک اللہ وغیرہ جیسے الفاظ کے آخر میں جذبات کے اظہار کے لیے فجائیہ(!) آتا ہے۔
☜ "مقامات عالیہ سے نوازے" ——— "مقامات عالیہ" بھی اگرچہ بالکل درست لفظ ہے ؛ مگر سیاق و سباق کی رعایت سے 'اعلی مقام' یا 'اعلی مقامات' یا 'اعلی درجات' جیسے الفاظ سے سلاست زیادہ پیدا ہوتی ہے۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں