علمی گفتگو

 حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوریؒ اورحضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ ایک سفر میں ساتھ تھے۔ حضرت مولانا تھانویؒ کے یہاں ہدیہ قبول کرنے کے کچھ اصول مقرر تھے، مگر مستثنیات بھی تھے۔ ایک شخص نے اس سفر میں حضرت تھانویؒ کو ایک گھڑی ہدیہ میں پیش کی، حضرتؒ نے قبول فرمالی۔حضرت سہارنپوریؒ نے بعد میں ارشاد فرمایا کہ: اگر یہ گھڑی ضرورت سے زائد ہو تو اس کو میر ے ہاتھ فروخت کر دیں۔حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ ’’میں بھی آپ کا اور گھڑی بھی آپ کی ،یوں ہی لے لیجئے‘‘۔  اس پر حضرت سہارنپوریؒ نے فرمایا کہ:’’میں ابتدا خریدنے کی کر چکا ہوں، اس لئے اب ہدیہ نہیں ہو سکتا، ہدیہ تو ابتداء ً ہوتا ہے ‘‘ ۔بالآخر کچھ گفتگو کے بعد معاملہ طے ہو گیااور حضرت سہارنپوریؒ نے گھڑی خرید لی۔ جب اُس مُہْدِی کو اِس واقعہ کا علم ہوا ، تو اس کو گرانی ہوئی۔تو حضرت تھانویؒ نے حضرت سہارنپوریؒ سے فرمایا کہ وہ گھڑی واپس کر دیں۔حضرت سہارنپوری ؒ نے فرمایا کہ کیا خیارِ شرط تھا،جو واپس کروں؟ حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ خیارِ شرط تو نہ تھا، مگر ہدیہ دینے والے کو اس فروخت کر دینے سے گرانی ہو رہی ہے،اس لئے واپسی کا مطالبہ کر رہا ہوں۔ اس پر حضرت سہارنپوریؒ نے فرمایا کہ ہدیہ دینے والے کی رضا کو تو شرط قرار نہیں دیا گیا تھا، ہمارے درمیان تو بیع کی بات ہوئی تھی تب حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ: اچھا تو اقالہ کر لیجئے۔ حضرت سہارنپوریؒ نے فرمایا کہ: اقالہ کی صحت کے لئے طرفین کی رضامندی شرط ہے اور میں تو اقالہ پر راضی نہیں حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ آپ میرے بڑے ہیںاور چھوٹوں کی خاطر بڑے راضی ہو ہی جایا کرتے ہیں،آپ بھی راضی ہو جائیے۔ اس پر حضرت سہارنپوریؒنے فرمایا کہ میں ضرور راضی ہو جاتا ، مگر میں نے وہ گھڑی اپنے لئے نہیں خریدی تھی، بلکہ میرے ایک دوست ہیں، ان کے واسطے ان کی نیت سے خریدی ہے، میں ان کی طرف سے وکیل بالشراء تھا،چناں چہ شرائ پر توکیل پوری ہو گئی ، اب مجھے اس میں تصرف کرنے کا حق نہیں رہا، اس لئے کہ وکیل کو اس کام کے انجام دینے کے بعد جس کا اس کو وکیل بنایا گیاتھا ، تصرف کرنے کا حق نہیں رہتا پھر کسی اور مجلس میں جس میں وہ مُہْدِی بھی موجود تھے، حضرت سہارنپوریؒ نے وہ گھڑی حضرت تھانویؒ کو دے دی۔ حضرت تھانویؒنے فرمایا کہ اس وقت تو ایسا فرما رہے تھے، اب کیاہوا؟ تو فرمایا کہ معاملہ تو اسی طرح ہے جس طرح میں نے بتایا تھا، مگر مجھے اپنے دوست پر اعتماد ہے، مجھے اطمینان ہے کہ میرے اس تصرف سے انہیں گرانی نہیں ہو گی

منقول.....


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سبق جلدی کیسے یاد کریں؟

علماء کے خون سے رنگین ہے داستان آزادی ہند